نیچے دیئے گئے موضوعات میں سے کوئی موضوع منتخب کریں، اسباق کو نمبروار پڑھیں، اور سوال کیلئے آخر میں دیئے گئے ای میل پر رابطہ کریں۔
عقیدہ توحید دوسرا سبق

اس سبق میں ہم درج ذیل باتوں سے متعلق علم حاصل کریں گے

• اللہ تعالی ہر چیز کے خالق ہیں

• اللہ تعالی کی صفت قدیر

• اللہ تعالی کی صفت سمع و بصر و علم

• نفع نقصان کے مالک اللہ تعالی ہیں

• اللہ کی صفت حکیم

• اللہ کی صفت حکیم

• شرک سے متعلق چند ضروری با تیں اور شرک کا حکم

• ہر عیب سے

اللہ تعالی ہر چیز کے خالق ہیں

اللہ تعالی ہر چیز کے خالق ہیں۔خلق کہتے ہیں کسی چیز کو مادے کے بغیر کسی کے بغیر پیدا کرنا۔اللہ تعالی کے بغیر کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو بغیر مادے کے پیدا کر سکے۔مثلا انسان مٹی سے اینٹ بناتا ہے لیکن اللہ تعالی مٹی کے بغیر مٹی سے پیدا کرتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالی افعال یعنی کاموں کے بھی خالق ہیں۔مثلا ایک انسان اپنا ہاتھ ہلاتا ہے تو یہ ہاتھ ہلانا انسان کا فعل ہے لیکن انسان اس کام کا پیدا کرنے والا نہیں ہے کیونکہ کسی چیز کو پیدا کرنے کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ پیدا کرنے والے جس چیز کو پیدا کر رہا ہے اس سے متعلق مکمل علم ہو لیکن جب ہم ہاتھ ہلاتے ہیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے دماغ اور جسم کے کون سے عضلات نے کام کیا ہے۔لہذا ہم یہ کام تو کرتے ہیں مگر ہم اس کام کے خالق نہیں ہیں۔اسی طرح کائنات کے تمام حالات کے خالق اللہ تعالی ہیں۔خوشی، غمی، عزت، بے عزتی وغیرہ۔

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (البقرہ: 117)
ترجمہ: وہ آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی نمونے کے پیدا کرنے والا ہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بنانے کیلئے کسی پہلے سے موجود چیز یا نمونے کا محتاج نہیں۔

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الصافات: 96)
ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔
وضاحت: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں، انسان صرف اختیار کے ساتھ کام کرتا ہے۔

تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: 140)
ترجمہ: یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے حالات جیسے خوشی اور غم اللہ تعالیٰ کے حکم سے بدلتے رہتے ہیں۔

اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہیں

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔ کوئی بھی کام ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ نہ کر سکیں۔ وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہیں تو کمزور کو طاقتور بنا دیں اور طاقتور کو کمزور کر دیں۔ اسی طرح دنیا کی ہر چیز کی جو خاصیت ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ مثال کے طور پر آگ کی خاصیت جلانا ہے۔ انسان آگ کو بجھا تو سکتا ہے لیکن اسے ٹھنڈا نہیں کر سکتا، مگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو آگ کی جلانے والی خاصیت کو بھی ختم کر سکتے ہیں۔

إِنَّ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرہ: 20)
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔

يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ (الروم: 19)
ترجمہ: وہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر تبدیلی پر قادر ہیں۔

قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (الانبیاء: 69)
ترجمہ: ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ چاہیں تو کسی بھی چیز کی خاصیت بدل سکتے ہیں۔

اللہ تعالی سمیع، بصیر اور علیم ہیں

اللہ تعالی سمیع ہیں یعنی ہر چیز سنتے ہیں۔ کائنات کی تمام آوازیں اللہ تعالی بیک وقت سنتے ہیں اور کسی کے محتاج نہیں۔ اللہ تعالی بصیر ہیں یعنی سب کچھ دیکھتے ہیں، کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہیں۔ اللہ تعالی علیم ہیں یعنی ہر چیز کو جانتے ہیں، کوئی چیز ان کے علم سے باہر نہیں۔

إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (الحج: 61)
ترجمہ: بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
وضاحت: اللہ ہر آواز کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے، کوئی چیز چھپی نہیں رہتی۔

إِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرہ: 282)
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
وضاحت: اللہ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

وَاللّٰهُ يَسْمَعُ وَيَرَى (النساء: 134)
ترجمہ: اور اللہ سنتا اور دیکھتا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالی ہر وقت بندوں کے اعمال کو سن اور دیکھ رہے ہیں۔

نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں

نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے نفع دیتا ہے اور جسے چاہے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بھی مخلوق اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اسی طرح نقصان بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی ہوتا ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

حتیٰ کہ کوئی فرشتہ یا نبی بھی خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوتا، نہ ہی کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔

قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ (الاعراف: 188)
ترجمہ: کہہ دیں میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں، سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔

وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ (الانعام: 17)
ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔
وضاحت: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نقصان کو دور کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ (یونس: 107)
ترجمہ: اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو فائدہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔

اللہ تعالیٰ حکمت کے مالک ہیں

اللہ تعالیٰ کی صفت "حکیم" ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت اور فائدہ ہوتا ہے۔ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے اور اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہماری محدود عقل اس حکمت کو سمجھ نہیں پاتی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں حکمت موجود نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے جو احکام ہمیں دین کی صورت میں عطا فرمائے ہیں، ان میں بھی لازماً حکمت ہوتی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر حکم کو مانیں، چاہے اس کی حکمت ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔

حضرت خضرؑ کا واقعہ (سورۃ الکہف خلاصہ)
حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضرؑ کے ساتھ علم حاصل کرنے کیلئے گئے۔ حضرت خضرؑ نے کشتی کو نقصان پہنچایا، ایک لڑکے کو قتل کیا، اور ایک دیوار کو بغیر اجرت کے ٹھیک کیا۔ حضرت موسیٰؑ کو یہ کام بظاہر غلط لگے، لیکن آخر میں حضرت خضرؑ نے بتایا کہ ہر کام کے پیچھے اللہ کی حکمت تھی: کشتی کو ظالم بادشاہ سے بچانا، لڑکے کے بدکار بننے سے پہلے اسے روکنا، اور دیوار کے نیچے یتیموں کا خزانہ محفوظ رکھنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کاموں میں حکمت ہوتی ہے، چاہے ہمیں فوراً سمجھ نہ آئے۔

إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبہ: 28)
ترجمہ: بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے میں مکمل علم اور حکمت شامل ہوتی ہے۔

وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (النساء: 11)
ترجمہ: اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
وضاحت: شریعت کے احکام جیسے وراثت وغیرہ میں بھی اللہ کی حکمت شامل ہے۔

إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (الانعام: 83)
ترجمہ: بے شک آپ کا رب حکمت والا، علم والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حکمت اور علم پر مبنی ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ الرزاق ہیں

اللہ تعالیٰ کی صفت "الرزاق" ہے، یعنی ہر مخلوق کو رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہمیں ملتا ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی کسی کو رزق نہیں دے سکتا۔

رزق میں صرف کھانا پینا ہی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ضروریات شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ رزق دینے میں کسی مخلوق کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ تمام مخلوق خود اللہ کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس رزق کے لامحدود خزانے ہیں۔

اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (الرعد: 26)
ترجمہ: اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کی کمی بیشی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (الذاریات: 58)
ترجمہ: بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔
وضاحت: اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اصل رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

نیچے دیئے گئے موضوعات میں سے کوئی موضوع منتخب کریں، اسباق کو نمبروار پڑھیں، اور سوال کیلئے آخر میں دیئے گئے ای میل پر رابطہ کریں۔