تذکرہ
مستند،بنیادی اور عام فہم اسلامی تعلیمات
عقائد
سبق نمبر 2
بنیادی عقائد

اس سبق میں ہم چند ایسے بنیادی عقائد کا تذکرہ کریں گے جن کی واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات مسلمان مختلف غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

1۔ اللہ تعالی کی رضا مندی اسلام کے علاوہ کسی اور دین سے حاصل نہیں کی جاسکتی
2۔ اسلام زندگی گذارنے کا بہترین اور مکمل طریقہ ہے۔
3۔ اسلام قیامت تک محفوظ رہے گا
4۔ علماء حقہ بھی قیامت تک موجود رہیں گے
5۔ قرآن و حدیث کی تشریح بھی محفوظ ہے
اسلام ہی نجات کا واحد راستہ

اللہ تعالیٰ کی رضامندی اسلام کے علاوہ کسی اور دین سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔

زندگی گزارنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے انسانوں کو بتایا، اسی کو دین کہتے ہیں۔

ہمارے پیارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اب قیامت تک کوئی اور نبی نہیں آئے گا، اور جو دین اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا وہ بھی آخری دین ہے۔

لہٰذا اب اللہ تعالیٰ کی رضامندی صرف دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے سے حاصل ہوگی۔ اگر اسلام کے خلاف کوئی کام کیا جائے تو اس سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوں گے۔
اسلام زندگی گزارنے کا بہترین اور مکمل طریقہ

اسلام زندگی گزارنے کا بہترین اور مکمل طریقہ ہے۔

زندگی گزارنے کے لیے طریقہ اور قانون کا تعین کرنے کے دو طریقے ہیں:

1۔ پیدا کرنے والے سے طریقہ پوچھا جائے کہ میں زندگی کس طرح گزاروں۔ جو طریقہ اللہ تعالیٰ بتائیں گے وہ زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہ ہماری ضروریات، خواہشات اور جذبات کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ یہی طریقہ اسلام ہے جو ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ملا۔

2۔ خود یا چند انسان مل کر کوئی قانون بنائیں کہ اس طرح زندگی گزارنی ہے۔ یہ طریقہ انسان کی زندگی کے لیے مکمل اور بہتر نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسان کا علم، عقل اور فہم محدود ہے اور وہ تمام انسانوں کے جذبات و احساسات کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

لہٰذا ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ وہ یہ یقین رکھے کہ زندگی گزارنے کا سب سے بہترین طریقہ اسلامی احکام پر عمل کرنا ہے۔

ایک اہم بات: اگر ہم اسلامی احکام پر مکمل عمل نہ بھی کر سکیں تب بھی ہمارا عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ بہترین طریقہ زندگی اسلام ہی ہے۔

اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متعلق اصولی احکام موجود ہیں، اور اس پر ایمان رکھنا بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
علماء دین کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، مگر اس حفاظت کے لیے ایک مضبوط نظام بھی قائم فرمایا ہے، جس کا اہم حصہ علماءِ کرام ہیں۔

قیامت تک دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں ایسے علماءِ حقہ کی جماعت رکھی ہے جو دین کو صحیح طور پر جانتے ہیں، اس کی حفاظت کرتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ کبھی بھی ایسا زمانہ نہیں آیا جس میں حق پر قائم علماء موجود نہ ہوں۔

اگر کوئی مسلمان سچے دل کے ساتھ دین کی صحیح رہنمائی تلاش کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور ایسے علماء تک پہنچا دیتے ہیں جو اسے سیدھا راستہ دکھاتے ہیں۔

لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ

ترجمہ: میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور وہ غالب رہے گی۔

حوالہ: صحیح مسلم

قرآن و حدیث کی تشریح محفوظ ہے

اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآنِ پاک کے الفاظ کو محفوظ فرمایا ہے، اسی طرح اس کے معنیٰ اور تشریح کو بھی محفوظ رکھا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے قرآن یا حدیث کی تشریح نہیں کر سکتا، بلکہ اس کی صحیح وضاحت وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ لوگوں کے سامنے قرآنِ پاک کی وضاحت بیان کریں، تاکہ دین کو صحیح طریقے سے سمجھا جا سکے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وضاحت آج بھی محفوظ ہے، جو ہمیں احادیثِ مبارکہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کے ذریعے ملتی ہے۔

وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ

ترجمہ: اور ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر (قرآن) نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس کی وضاحت کریں۔

حوالہ: سورۃ النحل (44)

اہل السنّت والجماعت

اہل السنّت والجماعت ایک اہم اصطلاح ہے جس کو سمجھنا ضروری ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے : میری امت میں 73 فرقے ہوں گے، جن میں سے صرف ایک نجات پانے والا ہوگا۔

جب اس نجات یافتہ جماعت کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان میں کیا صفات ہوں گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دو صفات بیان فرمائیں:

1۔ سنت کی پیروی: وہ ہر معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کوقابل اتباع سمجھتے ہیں۔

2۔ جماعتِ صحابہ کی پیروی: وہ سنت کو سمجھنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کو معیار بنائیں گے، اور اگر کسی مسئلے میں صحابہ کی مختلف آراء ہوں تو سب کو حق سمجھتے ہوئے کسی ایک پر اتباع کو لازمی سمجھیں گے۔

لہذا اس حدیث کی بنیاد پر یہ بات سمجھ آئی کے معیار حق دو چیزیں ہیں 1۔سنت 2۔اتباع صحابہ ۔اس حدیث میں صحابہ کیلئے جماعت کا لفظ استعمال ہوا اس لیےاہل السنت سے مراد وہ لوگ جو سنت کی پیروی کو لازمی سمجھیں اور الجماعت سے مراد صحابہ کی جماعت کی پیروی کو لازمی سمجھنے والے۔

اِفْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ إِحْدَىٰ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَىٰ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً

ترجمہ: یہود 71 فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ 72 فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔

صحابہ نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوں گے۔

حوالہ: ترمذی

کلمہ طیبہ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
کلمہ شہادت
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
کلمہ تمجید
سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ
ترجمہ: اللہ پاک ہے، سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
کلمہ توحید
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِى وَيُمِيتُ وَهُوَ حَىٌّ لَا يَمُوتُ أَبَدًا أَبَدًا ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کیلئے تعریف ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، وہ ہمیشہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، بزرگی اور عزت والا ہے، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ایمان مفصل
آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللّٰهِ تَعَالٰى وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ
ترجمہ: میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر، اور اس بات پر کہ اچھی اور بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر۔