اس سبق میں ہم عقیدۂ توحید سے متعلق درج ذیل اہم امور کی تفصیل جانیں گے:
عقیدۂ توحید اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایک مسلمان کی زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔
عقیدۂ توحید اسلام کی شان ہے، کیونکہ توحید کا جو پختہ اور قابل اطمینان تصور اسلام نے دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔
عقیدۂ توحید کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات کے اعتبار سے کامل اور یکتا جاننا اور ماننا۔
جیسی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ویسی کوئی اور نہیں، اور جیسی صفات اللہ تعالیٰ کی ہیں ویسی صفات کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔
توحید کی تین اقسام کا مختصر تعارف
توحید کا مفہوم اور مطلب بہتر طریقہ سے سمجھنے کیلئے توحید کو 3 بنیادی عنوان میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جنکا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
ذات میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسی ذات کسی کی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی اور ذات میں نہیں پائی جاتیں اور نہ ہی پائی جاسکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اپنا تعارف انہی صفات کے ذریعے کروایا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں ہیں اور سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے موجود ہیں۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُ۞
ترجمہ: اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔
هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۞
ترجمہ: وہی اول بھی ہے اور آخر بھی۔
توحید فی الاسماء کا مطلب
توحید فی الاسماء کا مطلب یہ ہے کہ جو نام قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کر کے بتائے گئے ہیں وہ نام اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کیلئے استعمال نہیں ہوسکتے۔
توحید فی الصفات کا مطلب
اللہ تعالیٰ کی صفات میں اس کو اکیلا ماننا۔ یعنی اللہ تعالیٰ جیسی صفات کسی اور مخلوق میں نہیں پائی جاتیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں کامل اور لا محدود ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی صفات کی 3 خصوصیات کا تعارف ہم اس سبق میں معلوم کریں گے:
یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اللہ تعالیٰ کی ذاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کسی اور نے یہ صفات نہیں دیں، بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے موجود ہے اسی طرح یہ صفات بھی ہمیشہ سے موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنی کسی صفت پر عمل کرنے میں کسی کے محتاج نہیں ہیں، جبکہ ہر مخلوق اپنی صفات کے استعمال میں دوسروں کی محتاج ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں لا محدود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی صفات پر لا محدود عمل کر سکے۔
اللّٰهُ الصَّمَدُ (سورۃ الاخلاص)
یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں ہیں، نہ اپنی ذات میں اور نہ ہی اپنی صفات میں۔
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (سورۃ یٰس: 82)
ترجمہ: جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف کہتا ہے "ہو جا"، تو وہ ہو جاتی ہے۔
وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (سورۃ البقرہ: 29)
ترجمہ: اور وہ ہر چیز کا پورا علم رکھنے والا ہے۔
الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ الہ (معبود) ہونے میں اکیلا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔
1۔ جو پرستش کے لائق ہو — الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پرستش کے لائق ہیں۔
2۔ جو اطاعت کے لائق ہو — الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس لائق ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے۔ (انبیاء علیہم السلام کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے)
وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ
(سورۃ البقرہ، آیت 163)
ترجمہ: اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
(سورۃ النساء، آیت 80)
ترجمہ: جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔
اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور الوہیت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی طرح سمجھنے کو شرک کہتے ہیں۔ شرک توحید کے الٹ اور متضاد ہے۔
کیونکہ توحید کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور الوہیت تینوں میں کوئی اللہ جیسا نہیں ہے، جبکہ شرک کا مطلب ہے کہ انہی تینوں میں سے کسی ایک میں کسی کو اللہ جیسا مان لیا جائے۔
جس طرح توحید کی 3 اقسام میں تفصیل کرنے سے توحید کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے، اسی طرح شرک کو بھی انہی 3 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ اس کی حقیقت واضح ہو سکے۔
ذات میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ جیسا سمجھنا یا کہنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاص صفات میں کسی کو شریک ماننا۔
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ
ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کوئی بھی اس جیسا نہیں، اس لیے کسی کو اس جیسا ماننا شرک ہے۔
صفات میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ جیسا سمجھا جائے۔
اگر اسی طرح کا کامل اور مکمل علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے مان لیا جائے تو یہ صفات میں شرک ہوگا۔
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ
ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
وضاحت: کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس لیے کسی اور کے لیے ایسا علم ماننا شرک ہے۔
صفات میں شرک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح علم حاصل کیا جائے، جس کی تفصیل "صفات میں توحید" میں بیان کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو معبود سمجھنا یا کہنا الوہیت میں شرک ہے۔ یعنی کسی اور کی عبادت کرنا یا اسے عبادت کے لائق سمجھنا شرک ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے، جبکہ صحابہ، اولیاء اور علماء کی بات اس لیے مانی جاتی ہے کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکام بتاتے ہیں۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
ترجمہ: انہیں حکم دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔
وضاحت: عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے، کسی اور کی عبادت شرک ہے۔
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: اگر نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔
وضاحت: علماء کی طرف رجوع کرنا اللہ کے حکم کے مطابق ہے، یہ شرک نہیں۔
آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
ترجمہ: ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے۔
وضاحت: صحابہ کرام کے طریقے کو معیار بنایا گیا ہے، اسی پر چلنا صحیح راستہ ہے۔
نتائج
اس سبق کو پڑھنے کے بعد ایک مسلمان کو توحید سے متعلق درج ذیل باتوں کا یقین اپنے دل میں بٹھا لینا چاہئے:
- اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور ہمارا معبود نہیں ہے۔
- معبود کے اندر جو صفات ہونی چاہئیں وہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جا سکتیں، اس لیے کوئی اور عبادت کے لائق نہیں ہے۔
- اللہ تعالی جیسا کسی دوسرے کو سمجھنا، ذات یا صفات کے اعتبار سے، شرک کہلاتا ہے۔
- توحید اور شرک ایک دوسرے کے متضاد ہیں، لہذا اگر شرک کر لیا تو توحید خطرے میں پڑ جائے گی۔
- اللہ تعالی کے علاوہ سب اللہ تعالی کے محتاج ہیں۔
توحید سے متعلق مزید جاننے کیلئے اگلا سبق پڑھئے۔