تذکرہ
مستند،بنیادی اور عام فہم اسلامی تعلیمات
عقائد
سبق نمبر 3
عقیدۂ توحید

اس سبق میں ہم عقیدۂ توحید سے متعلق درج ذیل اہم امور کی تفصیل جانیں گے:

1۔ عقیدۂ توحید کی اہمیت
2۔ عقیدۂ توحید کا مطلب
3۔ توحید کی تین اقسام کا مختصر تعارف
4۔ شرک کی تین اقسام کا مختصر تعارف
عقیدۂ توحید کی اہمیت

عقیدۂ توحید اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایک مسلمان کی زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔

توحید پر کامل یقین کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا، اور توحید میں شک یا انکار انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

عقیدۂ توحید اسلام کی شان ہے، کیونکہ توحید کا جو پختہ اور قابل اطمینان تصور اسلام نے دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔

اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ توحید سے متعلق بنیادی علم حاصل کرے تاکہ اس کا ایمان محفوظ رہے اور وہ سچا اور پکا مسلمان بن سکے۔
عقیدۂ توحید کا مطلب

عقیدۂ توحید کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات کے اعتبار سے کامل اور یکتا جاننا اور ماننا۔

یعنی اس بات کا پختہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ جیسا کوئی اور نہیں ہے، نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں۔

جیسی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ویسی کوئی اور نہیں، اور جیسی صفات اللہ تعالیٰ کی ہیں ویسی صفات کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور صرف اسی کی عبادت کرنا ہی حقیقی توحید ہے۔

توحید کی تین اقسام کا مختصر تعارف


توحید کا مفہوم اور مطلب بہتر طریقہ سے سمجھنے کیلئے توحید کو 3 بنیادی عنوان میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جنکا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔

1۔ ذات میں توحید

ذات میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسی ذات کسی کی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی اور ذات میں نہیں پائی جاتیں اور نہ ہی پائی جاسکتی ہیں۔

اس سبق میں ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کی دو ایسی صفاتِ کمال سیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اپنا تعارف انہی صفات کے ذریعے کروایا ہے۔

1۔ الصمد:
اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں ہیں اور سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
2۔ الاول:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے موجود ہیں۔
📖 دلائل
الصمد:
اَللّٰهُ الصَّمَدُ۞
ترجمہ: اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں جبکہ تمام مخلوق اسی کی محتاج ہے۔
الاول:
هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۞
ترجمہ: وہی اول بھی ہے اور آخر بھی۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے موجود ہیں، ان سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔
2۔ اسماء اور صفات میں توحید

توحید فی الاسماء کا مطلب

توحید فی الاسماء کا مطلب یہ ہے کہ جو نام قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کر کے بتائے گئے ہیں وہ نام اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کیلئے استعمال نہیں ہوسکتے۔

توحید فی الصفات کا مطلب

اللہ تعالیٰ کی صفات میں اس کو اکیلا ماننا۔ یعنی اللہ تعالیٰ جیسی صفات کسی اور مخلوق میں نہیں پائی جاتیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں کامل اور لا محدود ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی صفات کی 3 خصوصیات کا تعارف ہم اس سبق میں معلوم کریں گے:

1۔ ذاتی ہیں:
یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اللہ تعالیٰ کی ذاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کسی اور نے یہ صفات نہیں دیں، بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے موجود ہے اسی طرح یہ صفات بھی ہمیشہ سے موجود ہیں۔
2۔ عدم احتیاج:
اللہ تعالیٰ اپنی کسی صفت پر عمل کرنے میں کسی کے محتاج نہیں ہیں، جبکہ ہر مخلوق اپنی صفات کے استعمال میں دوسروں کی محتاج ہوتی ہے۔
3۔ لا محدود:
اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں لا محدود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی صفات پر لا محدود عمل کر سکے۔
پہلی بات کی دلیل:
اللّٰهُ الصَّمَدُ (سورۃ الاخلاص)
یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں ہیں، نہ اپنی ذات میں اور نہ ہی اپنی صفات میں۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کے پیدا کرنے سے وجود میں نہیں آئی بلکہ وہ ہمیشہ سے ہیں، اسی طرح ان کی صفات بھی ہمیشہ سے موجود ہیں۔
دوسری بات کی دلیل:
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (سورۃ یٰس: 82)
ترجمہ: جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف کہتا ہے "ہو جا"، تو وہ ہو جاتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بھی کام کے لیے کسی مدد یا سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تیسری بات کی دلیل:
وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (سورۃ البقرہ: 29)
ترجمہ: اور وہ ہر چیز کا پورا علم رکھنے والا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم لا محدود ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تمام صفات لا محدود ہیں۔
3۔ الوہیت میں توحید
توحید فی الالوہیت کا مطلب:

الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ الہ (معبود) ہونے میں اکیلا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔
ذات اور صفات میں توحید کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی دوسرا الہ نہیں ہو سکتا کیونکہ جو صفات ایک الہ (معبود) میں ہونی چاہئیں وہ صفات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔
الہ کا مفہوم:

جو پرستش کے لائق ہو — الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پرستش کے لائق ہیں۔

جو اطاعت کے لائق ہو — الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس لائق ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے۔ (انبیاء علیہم السلام کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے)
📖 پہلی دلیل (توحیدِ عبادت)
وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ
(سورۃ البقرہ، آیت 163)
ترجمہ: اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔
وضاحت: اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ عبادت کے لائق صرف ایک ہی اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں۔
📖 دوسری دلیل (اطاعت)
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
(سورۃ النساء، آیت 80)
ترجمہ: جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کی اطاعت بھی اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔
شرک کا مطلب اور اقسام

اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور الوہیت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی طرح سمجھنے کو شرک کہتے ہیں۔ شرک توحید کے الٹ اور متضاد ہے۔

یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی توحید کا قائل بھی ہو اور شرک بھی کرے۔ بلکہ جیسے ہی کوئی آدمی شرک کرتا ہے تو اس کی توحید ختم ہوجاتی ہے۔

کیونکہ توحید کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور الوہیت تینوں میں کوئی اللہ جیسا نہیں ہے، جبکہ شرک کا مطلب ہے کہ انہی تینوں میں سے کسی ایک میں کسی کو اللہ جیسا مان لیا جائے۔

اس لیے ایک مسلمان کے لیے شرک کا مطلب سمجھنا اور اس سے بچنے کی کوشش کرنا بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

جس طرح توحید کی 3 اقسام میں تفصیل کرنے سے توحید کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے، اسی طرح شرک کو بھی انہی 3 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ اس کی حقیقت واضح ہو سکے۔

1۔ ذات میں شرک

ذات میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ جیسا سمجھنا یا کہنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاص صفات میں کسی کو شریک ماننا۔

صمدیت میں شرک: کسی کو ایسا سمجھنا کہ اسے اپنے وجود یا بقا میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ حتیٰ کہ نبی یا فرشتہ کے بارے میں بھی ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔
اولیت میں شرک: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کی طرح کوئی اور بھی ہمیشہ سے موجود ہے، یہ بھی شرک ہے۔
📖 دلیل: سورۃ الشوریٰ (آیت 11)
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ
ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کوئی بھی اس جیسا نہیں، اس لیے کسی کو اس جیسا ماننا شرک ہے۔
2۔ صفات میں شرک

صفات میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ جیسا سمجھا جائے۔

مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت "علیم" ہے، یعنی وہ ماضی، حال اور مستقبل سمیت ہر چیز کو جانتے ہیں اور اس علم میں کسی کے محتاج نہیں۔

اگر اسی طرح کا کامل اور مکمل علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے مان لیا جائے تو یہ صفات میں شرک ہوگا۔

📖 دلیل: سورۃ الانعام (آیت 59)
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ
ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
وضاحت: کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس لیے کسی اور کے لیے ایسا علم ماننا شرک ہے۔

صفات میں شرک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح علم حاصل کیا جائے، جس کی تفصیل "صفات میں توحید" میں بیان کی جاتی ہے۔

3۔ الوہیت میں شرک

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو معبود سمجھنا یا کہنا الوہیت میں شرک ہے۔ یعنی کسی اور کی عبادت کرنا یا اسے عبادت کے لائق سمجھنا شرک ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو بالذات اطاعت کے قابل سمجھنا بھی شرک ہے۔ البتہ انبیاء اور علماء کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے، جبکہ صحابہ، اولیاء اور علماء کی بات اس لیے مانی جاتی ہے کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکام بتاتے ہیں۔

نوٹ: مزید تفصیل عقیدۂ رسالت میں آئے گی، ان شاء اللہ۔
📖 دلیل: سورۃ البینہ (آیت 5)
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
ترجمہ: انہیں حکم دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔
وضاحت: عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے، کسی اور کی عبادت شرک ہے۔
📖 دلیل: سورۃ النحل (آیت 43)
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: اگر نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔
وضاحت: علماء کی طرف رجوع کرنا اللہ کے حکم کے مطابق ہے، یہ شرک نہیں۔
📖 دلیل: سورۃ البقرہ (آیت 13)
آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
ترجمہ: ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے۔
وضاحت: صحابہ کرام کے طریقے کو معیار بنایا گیا ہے، اسی پر چلنا صحیح راستہ ہے۔

نتائج

اس سبق کو پڑھنے کے بعد ایک مسلمان کو توحید سے متعلق درج ذیل باتوں کا یقین اپنے دل میں بٹھا لینا چاہئے:

  • اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور ہمارا معبود نہیں ہے۔
  • معبود کے اندر جو صفات ہونی چاہئیں وہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جا سکتیں، اس لیے کوئی اور عبادت کے لائق نہیں ہے۔
  • اللہ تعالی جیسا کسی دوسرے کو سمجھنا، ذات یا صفات کے اعتبار سے، شرک کہلاتا ہے۔
  • توحید اور شرک ایک دوسرے کے متضاد ہیں، لہذا اگر شرک کر لیا تو توحید خطرے میں پڑ جائے گی۔
  • اللہ تعالی کے علاوہ سب اللہ تعالی کے محتاج ہیں۔

توحید سے متعلق مزید جاننے کیلئے اگلا سبق پڑھئے۔