رسالت کا لغوی اور شرعی مفہوم
رسالت کی ضرورت اور اہمیت
عقیدہ رسالت کا مطلب
انبیاء کرام علیہم السلام کی خصوصیات
انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات
چند انبیاء کرام علیہم السلام کا تعارف
معجزات
رسالت کا مفہوم
رسالت کا معنی ہے پیغام پہنچانا، یعنی ایک آدمی کا پیغام دوسرے تک پہنچانا۔
جب کوئی شخص کسی دوسرے کو پیغام دے کر بھیجتا ہے تو اس میں چار چیزیں ہوتی ہیں:
شریعت کی اصطلاح میں جب اللہ تعالیٰ بندوں تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے کسی کو بھیجتے ہیں تو اسے رسالت کہا جاتا ہے۔
رسالت کی اہمیت اور ضرورت
انسان انبیاء اور رسولوں کی تعلیمات کے بغیر دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
عقیدہ رسالت کا مطلب
انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات و خصوصیات
سب سے مقرب بندے
تمام انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقرب بندے ہوتے ہیں۔ وہ تمام دوسرے انسانوں سے افضل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی صفات عطا فرماتے ہیں جو عام انسانوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ قلبی، عقلی، روحانی اور جسمانی ہر اعتبار سے انبیاء کرام علیہم السلام کو عام انسانوں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
چنیدہ (منتخب)
تمام انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ کوئی انسان اپنی کوشش یا عبادت سے نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ یہ مرتبہ اللہ تعالیٰ اپنے منتخب بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔
مرد ہونا
تمام انبیاء کرام علیہم السلام مرد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا۔
بشر ہونا
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو انسان بنایا۔ لیکن ان کی قوتوں اور صلاحیتوں میں عام انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے، جس کا مکمل اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
پاکیزگی اور معصومیت
تمام انبیاء کرام علیہم السلام ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ قرآن پاک میں بعض انبیاء جیسے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کی طرف جس خطا کی نسبت کی گئی ہے، اس سے مراد اجتہادی خطا ہے، جو گناہ نہیں ہوتی۔
خیر خواہ
تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی امت کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس راستے میں تکالیف برداشت کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے نہ مال طلب کرتے ہیں اور نہ کوئی دنیاوی فائدہ۔
امین
تمام انبیاء کرام علیہم السلام انتہائی امانت دار ہوتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام بغیر کسی کمی بیشی کے اپنی امت تک پہنچاتے ہیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات
تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بنیادی تعلیمات یکساں رہی ہیں۔ یعنی بنیادی عقائد سب کے ایک جیسے ہیں، البتہ فروعی احکامات جیسے نماز، روزہ وغیرہ کے طریقوں میں فرق رہا ہے۔ ذیل میں ہم انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات میں مشترک امور کا ذکر کرتے ہیں۔
ایک اہم بات: انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کی یکسانیت ان کی سچائی کی ایک بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ وہ مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں مبعوث ہوئے، اس کے باوجود سب نے ایک ہی پیغام دیا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان سب کا ماخذ ایک ہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ۔
توحید
تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے توحید کا ایک ہی تصور پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔
رسالت
تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امت کو بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ اور یہ کہ ان کی اطاعت کامیابی کا راستہ ہے۔
آخرت
تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے آخرت پر ایمان کی دعوت دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن حساب کتاب ہوگا اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
انبیاء کرام علیہم السلام کا مختصر تعارف
حضرت آدم علیہ السلام
حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان اور پہلے نبی تھے۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںحضرت نوح علیہ السلام
آپ نے اپنی قوم کو طویل عرصہ تک اللہ کی طرف بلایا۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںحضرت ابراہیم علیہ السلام
آپ نے بت پرستی کے خلاف دعوت دی اور خلیل اللہ کہلائے۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںحضرت موسیٰ علیہ السلام
آپ کو فرعون کی طرف بھیجا گیا اور بڑے معجزات عطا ہوئے۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںحضرت صالح علیہ السلام
قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے اور اونٹنی کا معجزہ ظاہر ہوا۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںحضرت ہود علیہ السلام
قومِ عاد کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںحضرت عیسیٰ علیہ السلام
بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور بڑے معجزات عطا ہوئے۔
تفصیلی واقعہ دیکھیںمعجزات
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو معجزات عطا فرمائے۔ ان میں سے بعض معجزات کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔ اس لیے ہمیں معجزہ کا صحیح مفہوم معلوم ہونا چاہیے۔ ذیل میں معجزہ کا مطلب اور اس سے متعلق چند اہم باتیں بیان کی جاتی ہیں۔
معجزہ کا معنی اور مفہوم
معجزہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا غیر معمولی کام جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ہاتھ پر ظاہر فرمائے اور دوسرے لوگ اس جیسا کام کرنے سے عاجز ہو جائیں۔ یعنی ایسا کام جس کا مقابلہ کرنا ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، جس کے مقابلے میں فرعون اور اس کے جادوگر عاجز ہو گئے۔
معجزات حقیقی تھے
تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات حقیقی اور واقعی تھے، وہ محض جادو، دھوکہ یا نظر کا فریب نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایسے امور ظاہر فرمائے جو عام انسانی طاقت سے باہر تھے۔
مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن جانا، سمندر کا پھٹ جانا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا — یہ سب حقیقی معجزات تھے، نہ کہ کوئی جادو یا دھوکہ۔ ان معجزات کا مقصد لوگوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ انبیاء کرام علیہم السلام واقعی اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر ہیں۔