اس سبق میں ہم ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے متعلق بنیادی عقائد پڑھیں گے:
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا سردار بنایا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین باقی تمام ادیان کا ناسخ ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے معراج پر اپنے پاس بلایا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ قرآن پاک قیامت تک باقی رہے گا۔
ختم نبوت کا عقیدہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آخری نبی بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح انداز میں بیان فرمائی ہے۔
لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے۔ ایسے شخص کا انکار کرنا ضروری ہے اور اسے سچا ماننا درست نہیں۔
عقیدہ ختم نبوت کے تقاضے
- جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا انکار کرنا ضروری ہے۔
- ایسے شخص کو جھوٹا سمجھنا بھی ضروری ہے۔
دلیل (قرآن کریم)
اس آیت میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اس لیے آپ کے بعد کسی بھی نئے نبی کا آنا ممکن نہیں۔
شریعتِ محمدی ﷺ کی برتری اور ناسخ ہونا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تمام سابقہ ادیان کے لیے ناسخ ہے۔ یعنی گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں جو احکام تھے، اگر ان میں سے کوئی حکم شریعتِ محمدی ﷺ کے خلاف ہو تو وہ اب منسوخ شمار ہوگا اور اس پر عمل کرنا درست نہیں ہوگا۔
اب اللہ تعالیٰ کی رضا صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کرے۔ آپ ﷺ کی پیروی کے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا حاصل نہیں ہو سکتی۔
دلیل (قرآن کریم)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا حاصل کرنے کا واحد راستہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو مکمل طور پر اپنائے۔
آپ ﷺ کے معجزات
قرآن پاک
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف معجزات عطا فرمائے۔ ان میں سب سے بڑا اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ قرآن پاک ہے۔ یہ ایسا معجزہ ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت اور چیلنج دونوں حیثیت رکھتا ہے۔
اہلِ مکہ اور عرب کے لوگ فصاحت و بلاغت میں بہت بلند مقام رکھتے تھے، مگر قرآن پاک نے انہیں چیلنج دیا کہ وہ اس جیسا کلام پیش کریں، لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ یہ قرآن کے معجزہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔
دلیل (قرآن کریم)
اس آیت میں قرآن نے کھلا چیلنج دیا کہ اگر کوئی اسے انسانی کلام سمجھتا ہے تو وہ اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھائے۔ لیکن آج تک کوئی بھی اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکا، جو قرآن کے معجزہ ہونے کی روشن دلیل ہے۔
قرآن پاک کا معجزہ صرف اس کے الفاظ میں ہی نہیں، بلکہ اس کے معانی، اس کی ہدایت، اس کی پیشگوئیوں اور اس کے اثرات میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی مزید تفصیل کتب کے بیان میں آئے گی۔
معراج
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرا بڑا معجزہ "معراج" عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنے جسم مبارک کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں اور اس سے بھی اوپر تشریف لے گئے۔
مختصر واقعہ معراج
معراج کی رات سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) لے جایا گیا، جسے "اسراء" کہا جاتا ہے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی طرف لے جایا گیا جہاں آپ نے مختلف آسمانوں پر انبیاء کرام علیہم السلام سے ملاقات کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص قرب عطا فرمایا اور نماز کا تحفہ دیا۔
آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی رات واپس زمین پر تشریف لے آئے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔
دلیل (قرآن کریم)
اس آیت میں معراج (اسراء) کے واقعہ کا ذکر ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک ہی رات میں یہ عظیم سفر کروایا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معراج ایک حقیقی اور جسمانی معجزہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت سے ممکن ہوا۔