اس سبق میں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق بنیادی عقائد کے بارے میں جانیں گے:
- صحابی کا مطلب اور صحابی کسے کہتے ہیں
- صحابہ کرام کی اہمیت اور مقام
- تمام صحابہ کرام عادل ہیں
- عشرہ مبشرہ اور خلفائے راشدین کا تعارف
- چار صحابہ کرام کی دوسروں پر فضیلت
- خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
صحابی کی تعریف
صحابی کا لفظی معنی ہے "ساتھی"، لیکن شریعت کی اصطلاح میں صحابی سے مراد ہر وہ شخص ہے جس نے ایمان کی حالت میں جاگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی ہو۔
"جاگتے ہوئے" کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ اگر کسی نے نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو تو وہ صحابی نہیں کہلائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے، اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی حفاظت نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر دین محفوظ نہ رہے تو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کی حفاظت کا سب سے پہلا ذریعہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بنایا۔ انہوں نے براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا، اس پر مکمل عمل کیا، اور پھر اسے پوری دنیا میں عام کیا۔
اسی وجہ سے قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت، دین کی صحیح تشریح اور اس کی اشاعت کا سارا سہرا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سر ہے، اور انہی کی بدولت دینِ اسلام آج اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے۔
حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں صحابۂ کرام کے ایمان کو معیار بنایا:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی ایسے ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ خبردار! بے شک وہی خود بے وقوف ہیں، لیکن وہ جانتے نہیں۔"
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام کے ایمان کو نمونہ اور معیار قرار دیا ہے۔ یعنی کامل ایمان وہی ہے جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان اور عمل کو صحابۂ کرام کے طریقے کے مطابق بنائے۔
لہٰذا اسلام میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام نہایت بلند اور اہم ہے۔ ان کے بغیر دین کو سمجھنے کا کوئی دعویٰ درست نہیں ہو سکتا، اور جو شخص صحابۂ کرام کی بے توقیری کرتا ہے، وہ بھی دین کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا۔
تمام صحابہ عادل ہیں
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام اور متعدد قرآنی آیات و احادیث کی بنا پر امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔ عدل کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر پورا پورا عمل کرنا، قرآن و حدیث میں نہ کسی قسم کی کمی کرنا اور نہ کسی طرح کی زیادتی کرنا۔ دوسرے الفاظ میں دین کے علم و عمل کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ کرنا۔ یہ عقیدہ قرآن پاک، حدیث اور عقلی دلائل پر مبنی ہے۔
تمام صحابہ محفوظ ہیں
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ ہیں، معصوم نہیں۔ معصوم کا مطلب ہے جس سے کوئی غلطی نہ ہو، اور یہ صفت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ بنایا ہے۔ یعنی اگر کسی صحابی سے کوئی گناہ ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس کے اخروی نقصان سے محفوظ فرما دیتا ہے اور دنیا ہی میں ان کی نیکیوں کی بدولت اس گناہ کو معاف فرما دیتا ہے۔
اس کی واضح دلیل قرآن پاک کی درج ذیل آیت ہے:
کیا تمام صحابہ کا درجہ برابر ہے؟
صحابیت کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم برابر ہیں، لیکن بعض خصوصی صفات اور کارناموں کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بعض کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی۔
1۔ سبقت فی الاسلام
ابتدائی دور میں ایمان لانے والے صحابہ کو خاص مقام حاصل ہے۔
2۔ ہجرت مدینہ
جنہوں نے دین کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ ہجرت کی، ان کا درجہ بلند ہے۔
3۔ نصرت (انصار)
انصار نے مہاجرین کی مدد کی اور دین کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
4۔ بدری صحابہ
غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کو خاص فضیلت دی گئی۔
5۔ صلح حدیبیہ
بیعت رضوان میں شریک صحابہ کو اللہ تعالیٰ کی خاص رضا حاصل ہوئی۔
6۔ خلافت راشدہ
جن صحابہ کو خلافت ملی، انہیں امت کے لیے نمونہ بنایا گیا۔
7۔ عشرہ مبشرہ
وہ صحابہ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی، ان کا مقام بہت بلند ہے۔
چند ممتاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
اولین صحابہ میں سے ہیں، ہجرت مدینہ فرمائی، خلیفہ اول ہیں اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے سفر ہجرت کے ساتھی بھی تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ
سابقین اولین میں سے ہیں، غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے، اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ آپ عدل و انصاف کا عظیم نمونہ ہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
دو ہجرتیں کیں، خلیفہ ثالث ہیں اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ قرآن مجید کی تدوین کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ
سابقین اولین میں سے ہیں، نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار اور داماد ہیں، ہر اہم معرکے میں شریک رہے اور خلیفہ چہارم ہیں۔
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ
عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، غزوہ احد میں نبی ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے بڑی قربانی دی اور شدید زخمی ہوئے۔
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ
عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں اور اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لائے۔ آپ کو "حواری رسول" بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ
عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، ہجرت فرمائی اور اپنی سخاوت اور تجارت کے ذریعے اسلام کی بہت خدمت کی۔