عقیدہ تقدیر
اس سبق میں عقیدہ تقدیر سے متعلق درج ذیل بنیادی باتیں جانیں گے:
سبق کے اہم نکات
- عقیدہ تقدیر کا مطلب
- عقیدہ تقدیر کی اہمیت
- تقدیر دراصل اللہ تعالیٰ کی صفتِ علیم پر ایمان کا تقاضا ہے
- عقیدہ تقدیر کا تقاضا محنت میں کمی نہیں ہے
- عقیدہ تقدیر اور اختیار
- ہماری محدود سمجھ
- عقیدہ تقدیر اطمینان کا سبب ہے
- عقیدہ تقدیر کی غلط تشریح
عقیدہ تقدیر
عقیدہ تقدیر
عقیدہ تقدیر کی اہمیت
ایک اہم واقعہ
عقیدہ تقدیر
عقیدہ تقدیر اور محنت
عقیدہ تقدیر اور اختیار
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عقیدہ تقدیر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مجبورِ محض ہے۔ وہ اپنے کام کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ ایک بات غلط فہمی پر مبنی ہے۔ بلکہ یہ خیال تقدیر کا صحیح معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
عقیدہ تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہونا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ لیکن علم میں ہونے سے کسی انسان کا مجبور ہونا لازم نہیں آتا۔
اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں کہ ایک استاد صاحب اپنے ایک نکمہ شاگرد کو کہتے ہیں کہ تم امتحان میں فیل ہو جاؤ گے (کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اس شاگرد نے محنت نہیں کی)۔ اب جب شاگرد فیل ہوا تو وہ استاد صاحب سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس لیے فیل ہوا کیونکہ آپ نے کہا تھا۔ اگر وہ یہ بات کرے گا تو اسے بیوقوف سمجھا جائے گا۔ یہ فیل ہونا اس کی اپنی کمزوری کی وجہ سے تھا۔
دوسری وجہ ایک بالکل واضح بات یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان اپنے آپ کو مجبورِ محض نہیں سمجھتا۔ بلکہ جب بھی کوئی انسان خود کوئی کام کرتا ہے تو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے خود کیا۔
ہماری محدود سمجھ اور تقدیر
اگر ایک انسان صرف اپنی عقل سے تقدیر کے بارے میں زیادہ غور کرنے کی کوشش کرے تو ممکن ہے کہ اپنی محدود سمجھ کی وجہ سے اس کی پوری حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔
لہٰذا حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں زیادہ غور و فکر کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
البتہ جو عقلی اعتراضات پیدا ہوتے ہیں، ان کا مختصر جواب پچھلے دونوں عنوانات کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔
عقیدہ تقدیر پر سکون زندگی کا سبب
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عقیدہ تقدیر کی اہمیت، اس کا مطلب اور اس کے فوائد سورۃ الحدید میں بیان فرمائے ہیں۔ آیات بمع ترجمہ اور مختصر وضاحت درج ذیل ہے:
وضاحت: انسان پر دو ہی حالتیں آتی ہیں:
1۔ خوشی کی حالت: عقیدہ تقدیر انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔
2۔ غم کی حالت: عقیدہ تقدیر انسان کو صبر اور سکون عطا کرتا ہے۔
اسی وجہ سے آج کے دور میں مایوسی اور خودکشی جیسے مسائل بڑھتے ہیں، جبکہ عقیدہ تقدیر انسان کو ذہنی سکون اور اعتدال عطا کرتا ہے۔