تذکرہ
مستند،بنیادی اور عام فہم اسلامی تعلیمات
عقائد
سبق نمبر 10
آسمانی کتب اور ملائکہ

اس سبق میں ہم آسمانی کتب اور ملائکہ سے متعلق درج ذیل بنیادی باتوں کے بارے میں جانیں گے:

  • آسمانی کتب کا مطلب
  • مشہور آسمانی کتب
  • آسمانی کتب میں تحریف ہو چکی ہے
  • قرآن پاک سابقہ آسمانی کتب کے لیے ناسخ ہے
  • اہلِ کتاب کا مطلب
  • قرآن پاک ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے
  • قرآن پاک کے اعجاز کی وجوہات
  • فرشتے نورانی مخلوق ہیں
  • فرشتے نافرمانی نہیں کر سکتے
  • فرشتوں کے ذمہ کام
  • اللہ تعالیٰ کسی بھی کام میں کسی فرشتے کے محتاج نہیں ہیں
آسمانی کتب کا مطلب

آسمانی کتب سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل فرمائیں۔

ان کتب میں اللہ تعالیٰ اپنا تعارف، نبی کی اطاعت کی اہمیت، اور جس نبی پر کتاب نازل ہوتی ہے اس کے فروعی احکامات بیان فرماتے ہیں۔

یعنی ان آسمانی کتب کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کی عبادت کا صحیح طریقہ سکھانا ہے۔

مشہور آسمانی کتب

آسمانی کتب میں چار کتابیں خاص طور پر مشہور ہیں۔

زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی، تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، اور قرآنِ پاک ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا گیا۔

ان کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے بھی نازل فرمائے گئے۔

سابقہ آسمانی کتب میں تحریف

تورات اور انجیل اپنی اصل حالت میں محفوظ نہیں رہیں، بلکہ ان میں یہود و نصاریٰ نے خود تحریف کر دی۔

اسی وجہ سے یہ کتب اپنی حقیقی شکل میں موجود نہیں ہیں۔

ایک مسلمان کیلئے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ ان کتب میں تحریف ہو چکی ہے، کیونکہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس بات کو بیان فرمایا ہے۔

يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ
(سورۃ النساء: 46)

لہٰذا اصل اور محفوظ کتاب صرف قرآنِ پاک ہے، جو قیامت تک ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہے گی۔

قرآن پاک ناسخ ہے

قرآنِ پاک ناسخ ہے، یعنی یہ سابقہ آسمانی کتب میں موجود احکامات کو منسوخ کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سابقہ کتاب میں کوئی ایسی بات ہو جو قرآنِ پاک یا نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہو، تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا بلکہ قرآنِ پاک اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کیا جائے گا۔

قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ کی آخری اور مکمل کتاب ہے جو قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔

اہلِ کتاب سے مراد

اہلِ کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہوں۔

ان لوگوں میں یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے، اس کے باوجود قرآنِ پاک نے انہیں اہلِ کتاب کے نام سے ذکر کیا ہے۔

آخرت کے اعتبار سے کفار کا انجام (چاہے وہ اہلِ کتاب ہوں یا مشرکین) اللہ تعالیٰ کے عذاب کے تحت ہوگا۔

البتہ دنیوی احکام میں اہلِ کتاب کے ساتھ بعض مخصوص رعایتیں دی گئی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان مرد اہلِ کتاب کی پاک دامن عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔

لیکن مسلمان عورت کو کسی اہلِ کتاب مرد سے نکاح کی اجازت نہیں ہے۔

ایک اہم وضاحت: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ کتاب کافر نہیں ہیں، جبکہ یہ تصور قرآنِ کریم کی متعدد آیات کے خلاف ہے۔یعنی اہل کتاب بھی کفار ہی ہیں۔

قرآن پاک محفوظ ہے

قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو قیامت تک کے انسانوں کیلئے ہدایت کا مکمل ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، اس لیے یہ ہر قسم کی تحریف، تبدیلی اور کمی بیشی سے محفوظ ہے۔

سابقہ آسمانی کتابوں میں تحریف ہو چکی تھی، لیکن قرآنِ پاک اپنی اصل حالت میں آج بھی موجود ہے اور قیامت تک اسی طرح محفوظ رہے گا۔

یہ اللہ تعالیٰ کا خاص وعدہ ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ پاک دو چیزوں کا مجموعہ ہے:

1. الفاظ: قرآنِ پاک کے الفاظ قیامت تک محفوظ ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ غیر مسلم بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے، کیونکہ قرآنِ پاک 1400 سال گزرنے کے باوجود اپنے اصل نازل شدہ الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے۔ آج پوری دنیا میں لاکھوں مسلمان حافظِ قرآن موجود ہیں۔

2. معانی: قرآنِ مجید کے معانی اور مفہوم بھی محفوظ ہیں، جو احادیثِ مبارکہ کی صورت میں واضح اور محفوظ ہیں۔

اگر کوئی شخص قرآنِ پاک کی اپنی من پسند تشریح کرنے کی کوشش کرے تو علماء اس کی تشریح کو قرآنِ مجید کی دوسری آیات اور صحیح احادیث کی روشنی میں پرکھتے ہیں۔ اگر وہ تشریح ان کے خلاف ہو تو اسے رد کر دیا جاتا ہے۔

قرآنِ پاک ایک عظیم معجزہ

اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو قیامت تک کے لیے آخری نبی بنا کر بھیجا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسا دائمی معجزہ عطا فرمایا جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے، اور وہ ہے قرآنِ پاک۔

قرآنِ پاک ایسا زندہ معجزہ ہے جس کی تاثیر، خوبصورتی اور حقانیت ہر زمانے میں واضح رہتی ہے، اور یہ ہر دور کے انسان کو چیلنج کرتا ہے۔

قرآنِ پاک کا چیلنج: مشرکینِ مکہ اور اہلِ عرب اپنی فصاحت و بلاغت پر بہت ناز کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج دیا کہ اگر تمہیں اس کلام کے الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس جیسی دس آیات یا کم از کم ایک سورت بنا کر لے آؤ۔

وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ
(البقرہ: 23)

لیکن کوئی بھی اس چیلنج کو پورا نہ کر سکا۔ اگر کسی نے دعویٰ کیا بھی تو خود کفار نے ہی اس کے دعوے کو رد کر دیا۔ آج 1400 سال گزرنے کے باوجود بھی کوئی شخص قرآن جیسی ایک آیت بھی پیش نہیں کر سکا۔

قرآنِ پاک کے معجزہ ہونے کی چند نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں:

1. آسانی سے یاد ہو جانا: قرآنِ پاک ایک ایسا کلام ہے جسے چھوٹے بچے بھی لفظ بہ لفظ یاد کر لیتے ہیں، جبکہ دنیا کا کوئی اور کلام اس طرح محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔

2. بار بار پڑھنے میں لذت: قرآنِ پاک کو جتنا بھی پڑھا جائے، دل نہیں اکتاتا بلکہ ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

3. سچی پیشگوئیاں: قرآنِ پاک میں بیان کی گئی مستقبل کی خبریں بالکل سچ ثابت ہوئیں۔ مثلاً سورۂ روم میں بتایا گیا کہ اہلِ روم چند سالوں میں دوبارہ غالب آ جائیں گے، اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ قرآنِ پاک نے خبر دی تھی۔

غُلِبَتِ الرُّومُ ۝ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ۝ فِي بِضْعِ سِنِينَ
(الروم: 2-4)

لہٰذا قرآنِ پاک ایک ایسا دائمی معجزہ ہے جو ہر زمانے میں مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، اس کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور اسلام کی حقانیت اور سچائی کی واضح دلیل ہے۔

فرشتوں کے بارے میں بنیادی عقائد

فرشتے نورانی مخلوق ہیں: فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک خاص مخلوق ہیں جو نور (روشنی) سے پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں اور نہ ہی ان میں انسانی خواہشات پائی جاتی ہیں۔ ان کا وجود پاکیزہ اور گناہوں سے بالکل دور ہوتا ہے۔

فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے: فرشتے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع رہتے ہیں۔ وہ کبھی بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے اسے فوراً بجا لاتے ہیں۔ اسی لیے وہ کامل اطاعت اور فرمانبرداری کی بہترین مثال ہیں۔

فرشتوں کے مختلف کام: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے مختلف کام مقرر فرمائے ہیں۔ بعض فرشتے وحی لے کر آتے ہیں، بعض انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں، کچھ رزق پہنچانے، بارش برسانے اور کائنات کے نظام کو چلانے پر مامور ہیں، جبکہ کچھ فرشتے موت کے وقت روح قبض کرنے پر مقرر ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرشتوں کا محتاج نہیں: اگرچہ اللہ تعالیٰ نے مختلف کاموں کے لیے فرشتوں کو مقرر فرمایا ہے، لیکن وہ ان کا ہرگز محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر کام خود کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے، فرشتے صرف اس کے حکم کے تابع ہیں اور اسی کی مشیت کے مطابق کام کرتے ہیں۔