تذکرہ
مستند،بنیادی اور عام فہم اسلامی تعلیمات
عقائد
سبق نمبر 11

عقیدہ تقدیر

اس سبق میں عقیدہ تقدیر سے متعلق درج ذیل بنیادی باتیں جانیں گے:

سبق کے اہم نکات

  • عقیدہ تقدیر کا مطلب
  • عقیدہ تقدیر کی اہمیت
  • تقدیر دراصل اللہ تعالیٰ کی صفتِ علیم پر ایمان کا تقاضا ہے
  • عقیدہ تقدیر کا تقاضا محنت میں کمی نہیں ہے
  • عقیدہ تقدیر اور اختیار
  • ہماری محدود سمجھ
  • عقیدہ تقدیر اطمینان کا سبب ہے
  • عقیدہ تقدیر کی غلط تشریح

عقیدہ تقدیر

ہر مسلمان کے لیے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ سب پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔ دنیا میں پیش آنے والا ہر واقعہ اسی کے مطابق ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر جب کسی انسان کی موت آتی ہے تو اس کا وقت، جگہ اور مرنے کی وجہ سب کچھ پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا جا چکا ہوتا ہے، اور وہی کچھ پیش آتا ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے۔

اسی طرح انسان کی زندگی کے بڑے اور چھوٹے تمام معاملات بھی اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ کوئی بھی کام اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

عقیدہ تقدیر

عقیدہ تقدیر کی اہمیت

اسلامی عقائد میں تقدیر پر ایمان رکھنا بھی ایمان کا ایک اہم جز ہے۔ یعنی ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، لیکن عقیدۂ تقدیر کا انکار کرے یا اس کی ایسی تشریح کرے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو، تو اس کا ایمان مکمل نہیں رہتا۔

کیونکہ ایسا شخص درحقیقت قرآنِ مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ کا انکار کرنے والا شمار ہوتا ہے، جبکہ ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اسلامی عقائد کو مکمل طور پر قبول کرے۔

ایک اہم واقعہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں سے ملو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔

پھر انہوں نے فرمایا کہ اگر ان میں سے کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے، تو اللہ تعالیٰ اس سے قبول نہیں کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔

اس کے بعد انہوں نے وہ حدیث بیان کی جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان لاؤ۔

عقیدہ تقدیر

ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی صفتِ علیم پر ایمان رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، مکمل اور ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی حقیقی اور کامل علم کو تقدیر کی شکل میں محفوظ فرما دیا ہے۔ لہٰذا کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے سے لکھے ہوئے علم اور فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔

اس لیے عقیدۂ تقدیر دراصل اللہ تعالیٰ کی صفتِ علیم پر ایمان کا تقاضا ہے، اور ایک سچا مسلمان اس پر مکمل یقین رکھتا ہے۔

عقیدہ تقدیر اور محنت

عقیدہ تقدیر کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ آدمی محنت میں کمی کرے اور سستی کر کے بیٹھ جائے۔

چنانچہ قرآن و حدیث میں یہ بات بہت اہتمام سے بتائی گئی ہے کہ کام محنت سے کرو۔

خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ محنت اور جدوجہد کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے عاجزی اور سستی سے پناہ مانگتے تھے۔

لہٰذا بعض لوگ عقیدہ تقدیر کا غلط مطلب بیان کرتے ہیں کہ عقیدہ تقدیر کا تقاضا یہ ہے کہ محنت نہ کریں، حالانکہ یہ بالکل غلط فہمی ہے۔

عقیدہ تقدیر اور اختیار

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عقیدہ تقدیر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مجبورِ محض ہے۔ وہ اپنے کام کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ ایک بات غلط فہمی پر مبنی ہے۔ بلکہ یہ خیال تقدیر کا صحیح معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

عقیدہ تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہونا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ لیکن علم میں ہونے سے کسی انسان کا مجبور ہونا لازم نہیں آتا۔

اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں کہ ایک استاد صاحب اپنے ایک نکمہ شاگرد کو کہتے ہیں کہ تم امتحان میں فیل ہو جاؤ گے (کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اس شاگرد نے محنت نہیں کی)۔ اب جب شاگرد فیل ہوا تو وہ استاد صاحب سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس لیے فیل ہوا کیونکہ آپ نے کہا تھا۔ اگر وہ یہ بات کرے گا تو اسے بیوقوف سمجھا جائے گا۔ یہ فیل ہونا اس کی اپنی کمزوری کی وجہ سے تھا۔

دوسری وجہ ایک بالکل واضح بات یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان اپنے آپ کو مجبورِ محض نہیں سمجھتا۔ بلکہ جب بھی کوئی انسان خود کوئی کام کرتا ہے تو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے خود کیا۔

ہماری محدود سمجھ اور تقدیر

اگر ایک انسان صرف اپنی عقل سے تقدیر کے بارے میں زیادہ غور کرنے کی کوشش کرے تو ممکن ہے کہ اپنی محدود سمجھ کی وجہ سے اس کی پوری حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔

لہٰذا حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں زیادہ غور و فکر کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔

البتہ جو عقلی اعتراضات پیدا ہوتے ہیں، ان کا مختصر جواب پچھلے دونوں عنوانات کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔

عقیدہ تقدیر پر سکون زندگی کا سبب

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عقیدہ تقدیر کی اہمیت، اس کا مطلب اور اس کے فوائد سورۃ الحدید میں بیان فرمائے ہیں۔ آیات بمع ترجمہ اور مختصر وضاحت درج ذیل ہے:

مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ﴿22﴾ لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ﴿23﴾

ترجمہ: کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں، مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔ بے شک یہ اللہ پر آسان ہے۔ تاکہ تم اس پر غم نہ کرو جو تم سے فوت ہو جائے اور اس پر زیادہ خوش نہ ہو جاؤ جو تمہیں عطا کیا گیا ہے۔ اور اللہ کسی اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

وضاحت: انسان پر دو ہی حالتیں آتی ہیں:

خوشی کی حالت: جس شخص کا عقیدہ تقدیر پر ایمان ہوگا، وہ خوشی میں تکبر نہیں کرے گا۔ کیونکہ اگر وہ تکبر میں مبتلا ہو جائے تو دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرے گا اور انہیں نقصان پہنچائے گا۔

غم کی حالت: غم کے وقت بھی وہ شخص صبر کرے گا جس کو تقدیر پر ایمان ہوگا۔ ورنہ وہ یہ سوچتا رہے گا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ آج کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ مایوسی کا شکار ہو کر خودکشی یا انتہائی سخت اور غلط اقدامات تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ عقیدہ تقدیر انسان کو صبر، سکون اور اعتدال سکھاتا ہے۔