اس سبق میں ہم اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا مختصر تعارف حاصل کریں گے
اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں۔ خلق کا مطلب ہے کسی چیز کو بغیر مادے اور بغیر کسی کے مدد کے پیدا کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی ایسی قدرت نہیں رکھتا۔ بغیر مادے کے کہ کچھ بنا سکے لہذا اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور خالق نہیں ہے۔
انسان کے افعال بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ انسان صرف اپنے اعضاء کو استعمال کرتا ہے۔جس کو کسب کہتے ہیں ۔مزید تفصیل
وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
ترجمہ: اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔
وضاحت: انسان کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔
تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
ترجمہ: ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔
وضاحت: دنیا کے حالات اللہ تعالیٰ کے حکم سے بدلتے رہتے ہیں۔
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
ترجمہ: اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
وضاحت: کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔ کوئی بھی کام ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ نہ کر سکیں۔ وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہیں تو کمزور کو طاقتور بنا دیں اور طاقتور کو کمزور کر دیں۔ اسی طرح دنیا کی ہر چیز کی خاصیت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
إِنَّ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔
يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ
ترجمہ: وہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر تبدیلی پر قادر ہیں۔
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
ترجمہ: ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کی خاصیت بدل سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سمیع ہیں یعنی ہر چیز سنتے ہیں۔ کائنات کی تمام آوازیں اللہ تعالیٰ بیک وقت سنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بصیر ہیں یعنی ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ علیم ہیں یعنی ہر چیز کو جانتے ہیں۔
إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
ترجمہ: بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر آواز سنتے اور ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔
إِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو شامل ہے۔
وَاللّٰهُ يَسْمَعُ وَيَرَى
ترجمہ: اور اللہ سنتا اور دیکھتا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر وقت بندوں کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔
نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں
نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے نفع دیتا ہے اور جسے چاہے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بھی مخلوق اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
اسی طرح نقصان بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی ہوتا ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
📖 سورۃ الاعراف (188)
قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُترجمہ: کہہ دیں میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں، سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
📖 سورۃ الانعام (17)
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔
وضاحت: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نقصان کو دور کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
📖 سورۃ یونس (107)
وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِترجمہ: اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو فائدہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ حکمت کے مالک ہیں
اللہ تعالیٰ کی صفت "حکیم" ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت اور فائدہ ہوتا ہے۔ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے اور اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔
بعض اوقات ہماری محدود عقل اس حکمت کو سمجھ نہیں پاتی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں حکمت موجود نہیں۔
📖 حضرت خضرؑ کا واقعہ (سورۃ الکہف خلاصہ)
حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضرؑ کے ساتھ علم حاصل کرنے کیلئے گئے۔ حضرت خضرؑ نے کشتی کو نقصان پہنچایا، ایک لڑکے کو قتل کیا، اور ایک دیوار کو بغیر اجرت کے ٹھیک کیا۔ حضرت موسیٰؑ کو یہ کام بظاہر غلط لگے، لیکن آخر میں حضرت خضرؑ نے بتایا کہ ہر کام کے پیچھے اللہ کی حکمت تھی: کشتی کو ظالم بادشاہ سے بچانا، لڑکے کے بدکار بننے سے پہلے اسے روکنا، اور دیوار کے نیچے یتیموں کا خزانہ محفوظ رکھنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کاموں میں حکمت ہوتی ہے، چاہے ہمیں فوراً سمجھ نہ آئے۔📖 سورۃ التوبہ (28)
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌترجمہ: بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے میں مکمل علم اور حکمت شامل ہوتی ہے۔
📖 سورۃ النساء (11)
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌترجمہ: اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
وضاحت: شریعت کے احکام جیسے وراثت وغیرہ میں بھی اللہ کی حکمت شامل ہے۔
📖 سورۃ الانعام (83)
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌترجمہ: بے شک آپ کا رب حکمت والا، علم والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حکمت اور علم پر مبنی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ الرزاق ہیں
اللہ تعالیٰ کی صفت "الرزاق" ہے، یعنی ہر مخلوق کو رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہمیں ملتا ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی کسی کو رزق نہیں دے سکتا۔ رزق میں صرف کھانا پینا ہی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ضروریات شامل ہیں۔
📖 سورۃ الرعد (26)
اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُترجمہ: اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کی کمی بیشی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
📖 سورۃ الذاریات (58)
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُترجمہ: بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔
وضاحت: اصل رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ رحمان اور غفار ہیں
اللہ تعالیٰ منتقم ہیں
ترجمہ: بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
- پختہ یقین ہو کہ کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہو رہی ہے۔
- اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ہمارے ظاہر و باطن کو خوب جانتے ہیں۔
- ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہیں۔
- ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ سے دعا اور رجوع کرنے کی عادت ہو۔
- رزق، عزت اور مدد صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مانگی جائے، کسی اور سے امید نہ رکھی جائے۔
- یہ احساس ہو کہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں، جس سے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو۔
- دنیا کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، اگرچہ کبھی ہماری کم علمی کی وجہ سے سمجھ نہ آئے۔
- دین کے تمام احکام اور ممانعتوں میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پر کامل یقین ہو۔