تذکرہ
مستند،بنیادی اور عام فہم اسلامی تعلیمات
عقائد
سبق نمبر 4
عقیدۂ توحید

اس سبق میں ہم اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا مختصر تعارف حاصل کریں گے

اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں
اللہ تعالیٰ کی صفت قدیر
اللہ تعالیٰ کی صفت سمع، بصر اور علم
نفع و نقصان کے مالک اللہ تعالیٰ ہیں
اللہ تعالیٰ کی صفت حکیم
اللہ تعالیٰ رحمن اور غفار ہیں
اللہ تعالیٰ قہار اور منتقم ہیں
اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ معاف کرنے والے ہیں
اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں

اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں۔ خلق کا مطلب ہے کسی چیز کو بغیر مادے اور بغیر کسی کے مدد کے پیدا کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی ایسی قدرت نہیں رکھتا۔ بغیر مادے کے کہ کچھ بنا سکے لہذا اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور خالق نہیں ہے۔

انسان جوچیزیں بناتا ہے وہ پہلے سے موجود مادہ استعمال کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی مادے کے تخلیق فرماتے ہیں۔لہذا کوئی انسان خالق نہیں ہوسکتا کسی بھی چیز کا۔

انسان کے افعال بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ انسان صرف اپنے اعضاء کو استعمال کرتا ہے۔جس کو کسب کہتے ہیں ۔مزید تفصیل

مثال کے طور پر ہاتھ کا حرکت کرنا انسان کا عمل ہے، لیکن اس نظام اور طاقت کا خالق اللہ تعالیٰ ہیں۔ اسی طرح تمام حالات کے خالق بھی اللہ تعالی ہیں۔

تمام احوال صحت،بیماری،شکست،فتح وغیرہ ان تمام احوال کے خالق بھی اللہ تعالی ہیں۔
📖 سورۃ الصافات (96)
وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
ترجمہ: اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔
وضاحت: انسان کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔
📖 سورۃ آل عمران (140)
تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
ترجمہ: ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔
وضاحت: دنیا کے حالات اللہ تعالیٰ کے حکم سے بدلتے رہتے ہیں۔
📖 سورۃ الزمر (62)
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
ترجمہ: اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
وضاحت: کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔ کوئی بھی کام ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ نہ کر سکیں۔ وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہیں تو کمزور کو طاقتور بنا دیں اور طاقتور کو کمزور کر دیں۔ اسی طرح دنیا کی ہر چیز کی خاصیت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

مثال کے طور پر آگ کی خاصیت جلانا ہے، انسان آگ کو بجھا سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کی جلانے والی خاصیت بھی ختم کر سکتے ہیں۔
📖 سورۃ البقرہ (20)
إِنَّ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔
📖 سورۃ الروم (19)
يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ
ترجمہ: وہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر تبدیلی پر قادر ہیں۔
📖 سورۃ الانبیاء (69)
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
ترجمہ: ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کی خاصیت بدل سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سمیع، بصیر اور علیم ہیں

اللہ تعالیٰ سمیع ہیں یعنی ہر چیز سنتے ہیں۔ کائنات کی تمام آوازیں اللہ تعالیٰ بیک وقت سنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بصیر ہیں یعنی ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ علیم ہیں یعنی ہر چیز کو جانتے ہیں۔

📖 سورۃ الحج (61)
إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
ترجمہ: بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر آواز سنتے اور ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔
📖 سورۃ البقرہ (282)
إِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو شامل ہے۔
📖 سورۃ النساء (134)
وَاللّٰهُ يَسْمَعُ وَيَرَى
ترجمہ: اور اللہ سنتا اور دیکھتا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ ہر وقت بندوں کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔

نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں

نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے نفع دیتا ہے اور جسے چاہے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بھی مخلوق اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔

اسی طرح نقصان بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی ہوتا ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

حتیٰ کہ کوئی فرشتہ یا نبی بھی خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوتا، نہ ہی کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
📖 سورۃ الاعراف (188)
قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ: کہہ دیں میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں، سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
📖 سورۃ الانعام (17)
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ
ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔
وضاحت: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نقصان کو دور کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
📖 سورۃ یونس (107)
وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ
ترجمہ: اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو فائدہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔

اللہ تعالیٰ حکمت کے مالک ہیں

اللہ تعالیٰ کی صفت "حکیم" ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت اور فائدہ ہوتا ہے۔ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے اور اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔

بعض اوقات ہماری محدود عقل اس حکمت کو سمجھ نہیں پاتی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں حکمت موجود نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے جو احکام ہمیں دین کی صورت میں عطا فرمائے ہیں، ان میں بھی لازماً حکمت ہوتی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر حکم کو مانیں، چاہے اس کی حکمت ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔
📖 حضرت خضرؑ کا واقعہ (سورۃ الکہف خلاصہ)
حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضرؑ کے ساتھ علم حاصل کرنے کیلئے گئے۔ حضرت خضرؑ نے کشتی کو نقصان پہنچایا، ایک لڑکے کو قتل کیا، اور ایک دیوار کو بغیر اجرت کے ٹھیک کیا۔ حضرت موسیٰؑ کو یہ کام بظاہر غلط لگے، لیکن آخر میں حضرت خضرؑ نے بتایا کہ ہر کام کے پیچھے اللہ کی حکمت تھی: کشتی کو ظالم بادشاہ سے بچانا، لڑکے کے بدکار بننے سے پہلے اسے روکنا، اور دیوار کے نیچے یتیموں کا خزانہ محفوظ رکھنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کاموں میں حکمت ہوتی ہے، چاہے ہمیں فوراً سمجھ نہ آئے۔
📖 سورۃ التوبہ (28)
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
ترجمہ: بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے میں مکمل علم اور حکمت شامل ہوتی ہے۔
📖 سورۃ النساء (11)
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
ترجمہ: اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
وضاحت: شریعت کے احکام جیسے وراثت وغیرہ میں بھی اللہ کی حکمت شامل ہے۔
📖 سورۃ الانعام (83)
إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
ترجمہ: بے شک آپ کا رب حکمت والا، علم والا ہے۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حکمت اور علم پر مبنی ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ الرزاق ہیں

اللہ تعالیٰ کی صفت "الرزاق" ہے، یعنی ہر مخلوق کو رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہمیں ملتا ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی کسی کو رزق نہیں دے سکتا۔ رزق میں صرف کھانا پینا ہی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ضروریات شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ رزق دینے میں کسی مخلوق کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ تمام مخلوق خود اللہ کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس رزق کے لامحدود خزانے ہیں۔
📖 سورۃ الرعد (26)
اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ
ترجمہ: اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کی کمی بیشی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
📖 سورۃ الذاریات (58)
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
ترجمہ: بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔
وضاحت: اصل رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ رحمان اور غفار ہیں

اللہ تعالیٰ کی صفت "رحمان" ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔ دنیا میں جتنی بھی مخلوقات کے دلوں میں رحم، محبت اور شفقت پائی جاتی ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ارادے سے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم صفت "غفار" بھی ہے، یعنی بہت زیادہ بخشنے والا۔ یہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ جب کوئی بندہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اگر بندہ توبہ کرے تو بڑے سے بڑے گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت فرماتے ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور اس پر رحم فرماتے ہیں۔
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ — سورۃ الفاتحہ ترجمہ: بہت مہربان، نہایت رحم والا۔
مختصر وضاحت: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔
وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى — سورۃ طٰہٰ (82) ترجمہ: بے شک میں اس شخص کو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔
مختصر وضاحت: اللہ تعالیٰ سچی توبہ کرنے والے بندوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ منتقم ہیں

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت "منتقم" ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانی، ظلم اور سرکشی کرنے والوں کو سزا دینے والے ہیں۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت کرتا ہے اور گناہوں پر قائم رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام کا معاملہ فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ بہت مہربان اور معاف فرمانے والے ہیں، لیکن جو لوگ ظلم، تکبر اور نافرمانی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور توبہ نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ انہیں سزا بھی دیتے ہیں۔
ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھنے والے ہیں اور برے اعمال پر سزا دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ — سورۃ السجدہ (22)
ترجمہ: بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
مختصر وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی اور جرم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی صفات کے علم کے نتائج (علمی و عملی)
  • پختہ یقین ہو کہ کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہو رہی ہے۔
  • اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ہمارے ظاہر و باطن کو خوب جانتے ہیں۔
  • ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہیں۔
  • ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ سے دعا اور رجوع کرنے کی عادت ہو۔
  • رزق، عزت اور مدد صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مانگی جائے، کسی اور سے امید نہ رکھی جائے۔
  • یہ احساس ہو کہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں، جس سے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو۔
  • دنیا کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، اگرچہ کبھی ہماری کم علمی کی وجہ سے سمجھ نہ آئے۔
  • دین کے تمام احکام اور ممانعتوں میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پر کامل یقین ہو۔
تذکرہ
یہ ویب سائٹ مستند بنیادی تعلیمات کو مسلمانوں تک عام فہم انداز میں پہنچانے کیلئے بنائی گئی ہے۔