تذکرہ
مستند،بنیادی اور عام فہم اسلامی تعلیمات
عقائد
سبق نمبر 8
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

اس سبق میں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق بنیادی عقائد کے بارے میں جانیں گے:

  • صحابی کا مطلب اور صحابی کسے کہتے ہیں
  • صحابہ کرام کی اہمیت اور مقام
  • تمام صحابہ کرام عادل ہیں
  • عشرہ مبشرہ اور خلفائے راشدین کا تعارف
  • چار صحابہ کرام کی دوسروں پر فضیلت
  • خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
صحابی کی تعریف

صحابی کا لفظی معنی ہے "ساتھی"، لیکن شریعت کی اصطلاح میں صحابی سے مراد ہر وہ شخص ہے جس نے ایمان کی حالت میں جاگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی ہو۔

"جاگتے ہوئے" کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ اگر کسی نے نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو تو وہ صحابی نہیں کہلائے گا۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے، اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی حفاظت نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر دین محفوظ نہ رہے تو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کی حفاظت کا سب سے پہلا ذریعہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بنایا۔ انہوں نے براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا، اس پر مکمل عمل کیا، اور پھر اسے پوری دنیا میں عام کیا۔

اسی وجہ سے قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت، دین کی صحیح تشریح اور اس کی اشاعت کا سارا سہرا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سر ہے، اور انہی کی بدولت دینِ اسلام آج اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے۔

حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں صحابۂ کرام کے ایمان کو معیار بنایا:

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی ایسے ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ خبردار! بے شک وہی خود بے وقوف ہیں، لیکن وہ جانتے نہیں۔"

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام کے ایمان کو نمونہ اور معیار قرار دیا ہے۔ یعنی کامل ایمان وہی ہے جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان اور عمل کو صحابۂ کرام کے طریقے کے مطابق بنائے۔

لہٰذا اسلام میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام نہایت بلند اور اہم ہے۔ ان کے بغیر دین کو سمجھنے کا کوئی دعویٰ درست نہیں ہو سکتا، اور جو شخص صحابۂ کرام کی بے توقیری کرتا ہے، وہ بھی دین کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا۔

تمام صحابہ عادل ہیں

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام اور متعدد قرآنی آیات و احادیث کی بنا پر امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔ عدل کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر پورا پورا عمل کرنا، قرآن و حدیث میں نہ کسی قسم کی کمی کرنا اور نہ کسی طرح کی زیادتی کرنا۔ دوسرے الفاظ میں دین کے علم و عمل کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ کرنا۔ یہ عقیدہ قرآن پاک، حدیث اور عقلی دلائل پر مبنی ہے۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
ترجمہ: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے"
مختصر وضاحت: صحابہ کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے معیار بنایا ہے۔ ایمان تمام دین کی بنیاد ہے، اور صحابہ کا ایمان افراط و تفریط سے محفوظ تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے معیار بنانے کا حکم دیا۔
امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے پرکھ لیا"
مختصر وضاحت: اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا۔ جب اللہ تعالیٰ خود انتخاب فرما لے تو پھر اس میں کسی کمی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى
ترجمہ: "اور اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے"
مختصر وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام صحابہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور کامیاب ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے اچھا انجام وعدہ فرمایا ہے۔
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے"
مختصر وضاحت: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور عادل ہیں۔
تمام صحابہ محفوظ ہیں

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ ہیں، معصوم نہیں۔ معصوم کا مطلب ہے جس سے کوئی غلطی نہ ہو، اور یہ صفت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ بنایا ہے۔ یعنی اگر کسی صحابی سے کوئی گناہ ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس کے اخروی نقصان سے محفوظ فرما دیتا ہے اور دنیا ہی میں ان کی نیکیوں کی بدولت اس گناہ کو معاف فرما دیتا ہے۔

اس کی واضح دلیل قرآن پاک کی درج ذیل آیت ہے:

أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ترجمہ: "یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی طرف سے روح کے ذریعے ان کی مدد فرمائی ہے، اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، یہی اللہ کی جماعت ہے، اور سن لو کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہونے والی ہے" (سورۃ المجادلہ: 22)
مختصر وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے دلوں میں ایمان کو مضبوط کر دیا اور انہیں اپنی خاص مدد سے نوازا۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ محفوظ اور کامیاب ہیں اور ان کے گناہوں کے نقصانات سے ان کی حفاظت کی گئی ہے۔
کیا تمام صحابہ کا درجہ برابر ہے؟

صحابیت کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم برابر ہیں، لیکن بعض خصوصی صفات اور کارناموں کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بعض کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی۔

1۔ سبقت فی الاسلام

ابتدائی دور میں ایمان لانے والے صحابہ کو خاص مقام حاصل ہے۔

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
ترجمہ: "سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین اور انصار، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے" (سورۃ التوبہ: 100)
مختصر وضاحت: ابتدائی ایمان لانے والوں نے سخت حالات میں دین کو قبول کیا، اس لیے انہیں خاص فضیلت حاصل ہوئی۔
2۔ ہجرت مدینہ

جنہوں نے دین کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ ہجرت کی، ان کا درجہ بلند ہے۔

لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ
ترجمہ: "تم میں سے وہ لوگ برابر نہیں جو فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کرتے رہے" (سورۃ الحدید: 10)
مختصر وضاحت: ہجرت اور ابتدائی قربانی دینے والے صحابہ کا مقام زیادہ بلند ہے۔
3۔ نصرت (انصار)

انصار نے مہاجرین کی مدد کی اور دین کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

حدیث: "انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے" (صحیح بخاری)
مختصر وضاحت: انصار کی قربانی اور اخلاص کی وجہ سے انہیں خاص فضیلت حاصل ہے۔
4۔ بدری صحابہ

غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کو خاص فضیلت دی گئی۔

حدیث: "اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں معاف کر دیا" (صحیح بخاری)
مختصر وضاحت: بدر میں شرکت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی مغفرت عطا فرمائی۔
5۔ صلح حدیبیہ

بیعت رضوان میں شریک صحابہ کو اللہ تعالیٰ کی خاص رضا حاصل ہوئی۔

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
ترجمہ: "اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے" (سورۃ الفتح: 18)
مختصر وضاحت: اس بیعت میں شامل صحابہ کو اللہ کی رضا اور خاص مقام حاصل ہوا۔
6۔ خلافت راشدہ

جن صحابہ کو خلافت ملی، انہیں امت کے لیے نمونہ بنایا گیا۔

حدیث: "تم پر میری سنت اور میرے خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے" (ابو داؤد، ترمذی)
مختصر وضاحت: خلفائے راشدین کی پیروی کو نبی ﷺ نے ضروری قرار دیا۔
7۔ عشرہ مبشرہ

وہ صحابہ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی، ان کا مقام بہت بلند ہے۔

حدیث: "ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں..." (ترمذی)
مختصر وضاحت: یہ وہ عظیم صحابہ ہیں جنہیں خصوصی طور پر جنت کی خوشخبری دی گئی۔

چند ممتاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

اولین صحابہ میں سے ہیں، ہجرت مدینہ فرمائی، خلیفہ اول ہیں اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے سفر ہجرت کے ساتھی بھی تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ

سابقین اولین میں سے ہیں، غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے، اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ آپ عدل و انصاف کا عظیم نمونہ ہیں۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

دو ہجرتیں کیں، خلیفہ ثالث ہیں اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ قرآن مجید کی تدوین کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ

سابقین اولین میں سے ہیں، نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار اور داماد ہیں، ہر اہم معرکے میں شریک رہے اور خلیفہ چہارم ہیں۔

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ

عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، غزوہ احد میں نبی ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے بڑی قربانی دی اور شدید زخمی ہوئے۔

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ

عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں اور اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لائے۔ آپ کو "حواری رسول" بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، ہجرت فرمائی اور اپنی سخاوت اور تجارت کے ذریعے اسلام کی بہت خدمت کی۔