عقیدۂ توحید
اس سبق میں ہم عقیدۂ توحید سے متعلق درج ذیل اہم امور کی تفصیل جانیں گے:
- عقیدۂ توحید کی اہمیت
- عقیدۂ توحید کا مطلب
- توحید کی تین اقسام کا مختصر تعارف
- شرک کی تین اقسام کا مختصر تعارف
عقیدۂ توحید کی اہمیت
عقیدۂ توحید اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایک مسلمان کی زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔ توحید پر کامل یقین کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ توحید کا انکار یا توحید میں شک اسلام سے نکلنے کا سبب بنتا ہے۔ عقیدۂ توحید اسلام کی شان ہے، کیونکہ توحید کا جو پختہ اور قابل اطمینان تصور اسلام نے دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ توحید سے متعلق بنیادی علم حاصل کرے تاکہ اسلام اور ایمان محفوظ رہ سکے اور وہ سچا، پکا مسلمان بن سکے۔
عقیدۂ توحید کامطلب
عقیدہ توحید کا مطلب ہے اللہ تعالی کو ذات و صفات کے اعتبار سے کامل اور یکتا جاننا اور ماننا۔یعنی اس بات کا یقین رکھنا کہ اللہ تعالی جیسا کوئی اور نہیں ہے۔جیسی ذات اللہ تعالی کی ہے ویسا کوئی اور نہیں ہے۔جیسی صفات اللہ تعالی کی ہیں ویسی صفات کسی اور میں نہیں ہیں۔اللہ تعالی کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
توحید کی تین اقسام کا مختصر تعارف
توحید کا مفہوم اور مطلب بہتر طریقہ سے سمجھنے کیلئے توحید کو 3 بنیادی عنوان میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جنکا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
ذات میں توحید
ذات میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی جیسی ذات کسی کی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کی ذات میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی اور ذات میں نہیں پائی جاتیں اور نہ ہی پائی جاسکتی ہیں۔
اس سبق میں ہم اللہ تعالی کی ذات کی دو ایسی صفاتِ کمال سیکھتے ہیں جو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اپنا تعارف ان صفات کے ذریعہ کروایا ہے۔
1۔ الصمد:
اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کسی کے محتاج نہیں ہیں اور سب اللہ تعالی کے محتاج ہیں۔
اللہ تعالی کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کو اپنی ذات کے وجود اور بقاء میں کسی دوسرے کی ضرورت نہ ہو۔
2۔ الاول:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ہمیشہ سے موجود ہیں۔
جب کوئی نہیں تھا تب بھی اللہ تعالی موجود تھے۔
📖 پہلی بات کی دلیل
سورۃ الاخلاص، آیت 2اَللّٰهُ الصَّمَدُ۞
ترجمہ: اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔
وضاحت: اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں جبکہ تمام مخلوق اسی کی محتاج ہے۔
📖 دوسری بات کی دلیل
القرآن - سورۃ نمبر 57 الحديد، آیت 3هُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالۡبَاطِنُۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ۞
ترجمہ: وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی اور چھپا ہوا بھی، اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ اول اس معنی میں ہے کہ اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور وہ ہمیشہ سے موجود ہیں۔
صفات میں توحید
صفات میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی جیسی صفات کا مالک کوئی اور نہیں ہے۔
اللہ تعالی کی صفات بھی ہمیشہ سے موجود ہیں۔ جیسی صفات اللہ تعالی کی ہیں ایسی صفات کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔
اللہ تعالی کی صفات کی 3 خصوصیات کا تعارف ہم اس سبق میں معلوم کریں گے:
1۔ ذاتی ہیں:
یعنی اللہ تعالی کی تمام صفات اللہ تعالی کی ذاتی ہیں۔ اللہ تعالی کو کسی اور نے یہ صفات نہیں دیں،
بلکہ جس طرح اللہ تعالی کی ذات ہمیشہ سے موجود ہے اسی طرح یہ صفات بھی ہمیشہ سے موجود ہیں۔
اللہ تعالی کے علاوہ جس کسی میں بھی کوئی صفت پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالی نے عطا کی ہے۔
2۔ عدم احتیاج:
اللہ تعالی اپنی کسی صفت پر عمل کرنے میں کسی کے محتاج نہیں ہیں۔
جبکہ ہر مخلوق اپنی صفات کے استعمال میں دوسروں کی محتاج ہوتی ہے۔
3۔ لا محدود:
اللہ تعالی اپنی تمام صفات میں لا محدود ہیں۔
اللہ تعالی کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اپنی صفات پر لامحدود عمل کر سکے۔
دوسری بات کی دلیل: دوسری بات کی دلیل: اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں: "إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ" (سورۃ یٰس: 82) ترجمہ: جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف کہتا ہے "ہو جا"، تو وہ ہو جاتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بھی کام کے لیے کسی مدد یا سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قرآنِ پاک میں اس حقیقت کو مختلف واقعات کے ذریعے بھی واضح کیا گیا ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلتی ہوئی آگ کو حکم دیا گیا تو وہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی۔
تیسری بات کی دلیل: تیسری بات کی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ" (سورۃ البقرہ: 29) ترجمہ: اور وہ ہر چیز کا پورا علم رکھنے والا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت "علیم" (سب کچھ جاننے والا) ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات بے شمار ہیں اور ان کی کوئی حد نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کے بارے میں مکمل اور کامل علم رکھتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم لا محدود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تمام صفات لا محدود ہیں، جن کی کوئی حد یا انتہا نہیں۔ قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔
الوہیت میں توحید
الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی الہ ہونے میں اکیلا ہے،
یعنی اللہ تعالی کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔
اللہ تعالی کے علاوہ کوئی دوسرا الہ اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ
جو صفات ایک الہ (معبود) میں ہونی چاہئیں وہ صفات اللہ تعالی کے علاوہ
کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔
الہ کا مفہوم:
الہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ایسی ذات:
1۔ جو پرستش کے لائق ہو — الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہوا کہ صرف اللہ تعالی ہی پرستش کے لائق ہیں۔
2۔ جو اطاعت کے لائق ہو — الوہیت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالی ہی اس لائق ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے۔
(انبیاء علیہم السلام کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالی کی اطاعت ہوتی ہے)
📖 پہلی بات کی دلیل (عبادت)
سورۃ الفاتحہ، آیت 5إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ترجمہ: ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
وضاحت: اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔
📖 دوسری بات کی دلیل (اطاعت)
سورۃ النساء، آیت 59أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ
ترجمہ: اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اطاعت اللہ تعالیٰ کی ہے، اور رسول ﷺ کی اطاعت بھی درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔
شرک کا مطلب اور اقسام
اللہ تعالی کی ذات و صفات و الوہیت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالی کی طرح سمجھنے کو شرک کہتے ہیں۔شرک توحید کے الٹ اور متضاد ہے۔یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی توحید کا قائل بھی ہو اور شرک بھی کرے۔بلکہ جیسے ہی کوئی آدمی شرک کرتا ہے تو اس کی توحید ختم ہوجاتی ہے۔کیونکہ توحید کا مطلب ہے اللہ تعالی کی ذات و صفات و الوہیت تینوں میں کوئی اللہ جیسا نہیں ہے اور شرک کا مطلب ہے ان تینوں صفات میں کسی نہ کسی صفت میں کسی کو اللہ جیسا مان لیا۔اس لیے ایک مسلمان کیلئے شرک کا مطلب سمجھنا اور اس سے بچنے کی کوشش کرنا بہت اہم ہے۔اللہ تعالی اس سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔جس طرح توحید کی 3 اقسام میں تفصیل کرنے سے توحید کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے اسی طرح شرک بھی انہی 3 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ شرک کی حقیقت سمجھ آجائے۔
شرک کا مطلب اور اقسام
اللہ تعالی کی ذات، صفات اور الوہیت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالی کی طرح سمجھنے کو شرک کہتے ہیں۔
شرک توحید کے الٹ اور متضاد ہے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی توحید کا قائل بھی ہو اور شرک بھی کرے۔
بلکہ جیسے ہی کوئی آدمی شرک کرتا ہے تو اس کی توحید ختم ہوجاتی ہے۔
کیونکہ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ذات، صفات اور الوہیت تینوں میں کوئی بھی اللہ جیسا نہیں،
جبکہ شرک کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی کسی کو اللہ جیسا مان لیا جائے۔
اس لیے ایک مسلمان کے لیے شرک کا مطلب سمجھنا اور اس سے بچنے کی کوشش کرنا بہت اہم ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔
جس طرح توحید کی 3 اقسام کو تفصیل سے بیان کرنے سے اسے سمجھنا آسان ہو جاتا ہے،
اسی طرح شرک کو بھی انہی 3 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ اس کی حقیقت واضح ہو سکے۔
1۔ذات میں شرک
ذات میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کو اللہ تعالی جیسا سمجھنا یا کہنا۔
اوپر توحید فی الذات سے متعلق اللہ تعالی کی ذات کی جو دو صفات بیان کی ہیں ان میں کسی دوسرے کو شریک سمجھنا۔
صمدیت میں شرک:
یعنی کسی کو ایسا سمجھنا یا کہنا کہ اسے اپنے وجود اور بقا میں اللہ تعالی کی مدد کی ضرورت نہیں۔
اگر کسی کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھا جائے تو یہ شرک ہے، حتیٰ کہ کسی نبی یا فرشتہ کے بارے میں بھی ایسا نہیں کہا جا سکتا۔
اولیت میں شرک:
یعنی یہ سمجھنا کہ جس طرح اللہ تعالی ہمیشہ سے موجود ہیں اسی طرح کوئی اور بھی ہمیشہ سے موجود ہے۔
یہ عقیدہ رکھنا بھی (نعوذ باللہ) شرک ہے۔
📖 دلیل
سورۃ الشوریٰ، آیت 11لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ
ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
وضاحت: اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور قدرت میں کوئی بھی اس جیسا نہیں، لہٰذا کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر یا اس جیسا سمجھنا صریح شرک ہے۔
2۔صفات میں شرک
صفات میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں کسی دوسرے کو اللہ تعالی جیسا سمجھنا۔
مثلا اللہ تعالی کی ایک صفت "علیم" ہے جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی سب کچھ جانتے ہیں۔
ماضی، حال، مستقبل، تمام مخلوقات، ہر چیز اللہ تعالی کے علم میں ہے اور اس علم کے لیے وہ کسی کے محتاج نہیں۔
اب اگر اسی طرح کا کامل علم اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے لیے مان لیا جائے تو یہ صفات میں شرک ہوگا۔
صفات میں شرک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اللہ تعالی کی صفات کا صحیح علم اور مفہوم معلوم ہو،
جس کی تفصیل "صفات میں توحید" میں بیان کی جائے گی۔
📖 دلیل
سورۃ الانعام، آیت 59وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ
ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکمل اور کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لہٰذا کسی اور کے لیے ایسا علم ماننا صفات میں شرک ہے۔
3۔الوہیت میں شرک
اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو معبود سمجھنا یا کہنا الوہیت میں شرک ہے۔
یعنی اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی پرستش کرنا یا کسی کو قابلِ پرستش سمجھنا شرک ہے۔
نیز اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو بالذات یا اصلاً اطاعت کے قابل سمجھنا بھی شرک ہے۔
البتہ انبیاء علیہم السلام یا علماء کی بات اس لیے مانی جاتی ہے کہ ان کی بات دراصل
اللہ تعالی کی اطاعت تک لے کر جاتی ہے۔
📖 دلیل
سورۃ البینہ، آیت 5وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
ترجمہ: اور انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔
وضاحت: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، لہٰذا کسی اور کی عبادت کرنا یا اسے عبادت کے لائق سمجھنا شرک ہے۔
نتائج
اس سبق کو پڑھنے کے بعد ایک مسلمان کو توحید سے متعلق درج ذیل باتوں کا یقین اپنے دل میں بٹھا لینا چاہئے:
- اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور ہمارا معبود نہیں ہے۔
- معبود کے اندر جو صفات ہونی چاہئیں وہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جا سکتیں، اس لیے کوئی اور عبادت کے لائق نہیں ہے۔
- اللہ تعالی جیسا کسی دوسرے کو سمجھنا، ذات یا صفات کے اعتبار سے، شرک کہلاتا ہے۔
- توحید اور شرک ایک دوسرے کے متضاد ہیں، لہذا اگر شرک کر لیا تو توحید خطرے میں پڑ جائے گی۔
- اللہ تعالی کے علاوہ سب اللہ تعالی کے محتاج ہیں۔
توحید سے متعلق مزید جاننے کیلئے اگلا سبق پڑھئے۔