عقیدہ توحید
اس سبق میں ہم عقیدہ توحید سے متعلق چند مزید باتیں جانیں گے۔
شرک عملی اور شرک اعتقادی میں فرق اور ان کا حکم
چند شرکیہ اعمال
چند ایسے نظریات جو شرک کے قریب کرنے والے ہیں
قرآن پاک میں توحید سے متعلق واقعات
شرک کی برائی اور نقصان
گزشتہ سبق میں ہم شرک سے متعلق جان چکے ہیں کہ شرک توحید کے الٹ ہے، یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا انکار کفر ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو اللہ تعالیٰ جیسا سمجھنے والا اللہ تعالیٰ کو تو مانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنے کی وجہ سے مشرک ہو جاتا ہے، اور یہ بھی کفر ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کیلئے اس بات کی بہت زیادہ فکر کرنی چاہئے کہ وہ اس غلطی سے بچے۔
📖 آیاتِ قرآنی
عمل میں شرک اور عقیدہ میں شرک
عقیدہ میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ جیسی کوئی صفت کسی اور میں بھی موجود ہے۔ مثلاً کوئی یہ سمجھے کہ کوئی بزرگ یا فرشتہ اسے رزق دے سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور شفا دے سکتا ہے یا کسی اور کے پاس بھی ایسا علم ہے جیسا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اس کو شرک فی العقیدہ کہتے ہیں اور یہ در اصل کفر ہی ہے۔ اسی کو شرکِ اکبر کہا جاتا ہے۔
اس صورت میں انسان کا عقیدہ درست ہوتا ہے ۔لیکن وہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کیلئے کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کیلئے کرنا منع ہے۔جیسے تعظیمی سجدہ کرنا۔
پچھلی شریعتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں سجدہ کیا، لیکن شریعتِ محمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا بالکل حرام ہے۔
اگر یہ عمل شرکیہ عقیدہ کے ساتھ کیا جائے تو یہ شرک اور کفر ہے، اور اگر عقیدہ درست ہو پھر بھی کسی پیر یا قبر کو سجدہ کرے تو یہ انتہائی سخت حرام ہے۔
اس میں انسان کا عقیدہ درست ہوتا ہے لیکن وہ عبادت اللہ تعالیٰ کے بجائے لوگوں کو دکھانے کیلئے کرتا ہے، جیسے ریاکاری کے ساتھ نماز پڑھنا۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔لیکن اس سے انسان عمل خراب ہوتا ہے عقیدہ نہیں۔
لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا
ترجمہ: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
حوالہ: ترمذی
چند شرکیہ اعمال
- غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا
- کسی کی اس طرح تعریف کرنا کہ یہ لگے کہ نفع و نقصان کا مالک یہی ہے
- غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا
- کوئی ایسا کام کرنا جو صرف مشرکین کرتے ہوں یا ان کے مذہب کی علامت ہو
شرک کے قریب کرنے والے نظریات
1۔ یہ سمجھنا کہ ہر مذہب ٹھیک ہے
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر مذہب صحیح ہے، اس لیے کسی کو کافر نہیں کہنا چاہیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مذہب کے عقائد ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسلام کے عقائد اور دوسرے مذاہب کے عقائد بالکل متضاد ہیں۔
اسلام روشنی ہے اور کفر اندھیرا، اس لیے دونوں کو ایک سمجھنا درست نہیں۔
مثال 1: ایک شخص کراچی کے صحیح راستہ پر جا رہا ہے جبکہ دوسرا لاہور کی طرف جا رہا ہے۔ دونوں راستے ایک جیسے درست نہیں ہو سکتے۔
مثال 2: اگر کوئی شخص اصل بادشاہ کے مقابلے میں جھوٹے بادشاہ کو بھی صحیح سمجھے تو وہ غلطی پر ہو گا۔
📖 آیاتِ قرآنی
کسی صحیح العقیدہ مسلمان کے کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر، مشرک یا منافق کہنا ایک بہت خطرناک گناہ ہے، جس کا وبال کہنے والے پر آتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔
إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا
ترجمہ: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے "اے کافر!" تو یہ بات ان دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور لوٹتی ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم
وضاحت: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر دلیل کسی مسلمان کو کافر کہنا انتہائی خطرناک ہے، اور اگر وہ شخص واقعی کافر نہ ہو تو یہ حکم کہنے والے پر واپس آ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں مختلف خواص اور اثرات پیدا فرمائے ہیں۔ ہم عام طور پر روزمرہ زندگی میں یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آگ جلانے کا کام کرتی ہے، چھری کاٹتی ہے اور پانی ڈبونے کا سبب بنتا ہے۔ بار بار اس مشاہدے کی وجہ سے انسان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ شاید یہ اثرات ان چیزوں کی اپنی ذاتی طاقت اور خاصیت ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی چیز میں کوئی مستقل یا ذاتی تاثیر نہیں ہوتی۔ ہر چیز کا اثر اور ہر عمل کا وقوع صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے۔
مثلاً جب آگ جلانے کا سبب بنتی ہے تو اصل میں دو چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے واقع ہوتی ہیں:
1۔ آگ کا وجود میں آنا اور اس کا موجود ہونا
2۔ جلنے کا اثر پیدا ہونا
اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو آگ نہ جل سکتی ہے اور نہ کسی چیز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اسی طرح پانی کا ڈبونا، چھری کا کاٹنا اور دیگر تمام اسباب کے خواص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ یہ اسباب بذاتِ خود مؤثر نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی مؤثر اور فاعل ہے۔
لہذا توحید کا صحیح مفہوم سمجھنے کیلئے اور توحید کا پختہ یقین حاصل کرنے کیلئے قرآنی واقعات بہت اہم اور ضروری ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہئے کہ اسے قرآنی واقعات خصوصاً توحید سے متعلق اسباق نہ صرف یاد ہوں بلکہ وہ وقتاً فوقتاً ان کو دہرائے تاکہ اس کا عقیدہ توحید میں کمزوری سے محفوظ رہے۔
- اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کا انتظام فرعون کے گھر میں کر دیا
- دودھ پلانے کیلئے واپس ان کی والدہ کے پاس بھجوا دیا
- عصا کو معجزہ بنا دیا
- ہاتھ کو روشن کر دیا
- مادر زاد نابینا کو ہاتھ لگانے سے بینا کر دیا
- کوڑھی کا مرض ختم ہو جاتا
- آگ میں رہے مگر آگ نے جلایا نہیں
- گردن پر چھری چلائی مگر وہ چلی نہیں