اس سبق میں ہم عقیدہ توحید سے متعلق چند مزید باتیں جانیں گے۔
- شرک عملی اور شرک اعتقادی میں فرق اور ان کا حکم
- چند شرکیہ اعمال
- چند ایسے نظریات جو شرک کے قریب کرنے والے ہیں
- قرآن پاک میں توحید سے متعلق واقعات
گزشتہ سبق میں ہم شرک سے متعلق جان چکے ہیں کہ شرک توحید کے الٹ ہے، یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا انکار کفر ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو اللہ تعالیٰ جیسا سمجھنے والا اللہ تعالیٰ کو تو مانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنے کی وجہ سے مشرک ہو جاتا ہے، اور یہ بھی کفر ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کیلئے اس بات کی بہت زیادہ فکر کرنی چاہئے کہ وہ اس غلطی سے بچے۔
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ
ترجمہ: بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔
حوالہ: سورۃ النساء 4:48
وضاحت: اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ شرک ایسا گناہ ہے جس کی معافی بغیر توبہ کے نہیں، اس لئے ایک مسلمان کو سب سے زیادہ اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
ترجمہ: بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
حوالہ: سورۃ لقمان 31:13
وضاحت: اس آیت میں شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حق کسی اور کو دیا جاتا ہے، جو کہ انتہائی سنگین گناہ ہے۔
1۔ شرک فی العقیدہ
عقیدہ میں شرک کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ جیسی کوئی صفت کسی اور میں بھی موجود ہے۔ مثلاً کوئی یہ سمجھے کہ کوئی بزرگ یا فرشتہ اسے رزق دے سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور شفا دے سکتا ہے یا کسی اور کے پاس بھی ایسا علم ہے جیسا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اس کو شرک فی العقیدہ کہتے ہیں اور یہ در اصل کفر ہی ہے۔ اسی کو شرکِ اکبر کہا جاتا ہے۔
2۔ شرک فی العمل
پہلی قسم
اس صورت میں انسان کا عقیدہ درست ہوتا ہے لیکن وہ ایسا عمل کرتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے خاص ہے۔ جیسے سجدہ کرنا۔
پچھلی شریعتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں سجدہ کیا، لیکن شریعتِ محمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا بالکل حرام ہے۔
اگر یہ عمل شرکیہ عقیدہ کے ساتھ کیا جائے تو یہ شرک اور کفر ہے، اور اگر عقیدہ درست ہو پھر بھی کسی پیر یا قبر کو سجدہ کرے تو یہ انتہائی سخت حرام ہے۔
دوسری قسم (شرکِ اصغر)
اس میں انسان کا عقیدہ درست ہوتا ہے لیکن وہ عبادت اللہ تعالیٰ کے بجائے لوگوں کو دکھانے کیلئے کرتا ہے، جیسے ریاکاری کے ساتھ نماز پڑھنا۔ یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے لیکن پہلی قسم کے عمل سے اس کا گناہ کم ہے۔
لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا
ترجمہ: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
وضاحت: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی کو بھی کسی کے سامنے سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا ناجائز ہے۔
حوالہ: ترمذی
چند ایسے اعمال جو شرکیہ ہیں اور بہت سخت حرام ہیں:
- غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا
- کسی کی اس طرح تعریف کرنا کہ یہ لگے کہ نفع و نقصان کا مالک یہی ہے
- غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا
- کوئی ایسا کام کرنا جو صرف مشرکین کرتے ہوں یا ان کے مذہب کی علامت ہو
وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ
ترجمہ: اور وہ (جانور) جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔
وضاحت: اس آیت میں واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں، اور ایسا کرنا شرکیہ عمل ہے۔
حوالہ: سورۃ البقرہ 2:173
1۔ یہ سمجھنا کہ ہر مذہب ٹھیک ہے
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر مذہب صحیح ہے، اس لیے کسی کو کافر نہیں کہنا چاہیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مذہب کے عقائد اور beliefs ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے اپنے طریقے سے خدا کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سب صحیح ہوں۔
یہ بات منطقی (logically) طور پر بھی غلط ہے، کیونکہ متضاد عقائد ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا اسلام کے عقائد اور دوسرے مذاہب کے عقائد بالکل متضاد ہیں۔ اسلام روشنی ہے اور کفر اندھیرا، اب جو آدمی اندھیرے اور روشنی کو ایک کہے تو وہ کیسا ہے۔
مثال 1: دو آدمی ہیں دونوں نے کراچی جانا ہے، مگر ایک آدمی کراچی کے اصل راستہ پر چل رہا ہے اور دوسرا بالکل الٹ جانب لاہور کے راستہ پر جا رہا ہے۔ تو اب اگر کراچی والا یہ سمجھے کہ جو الٹ راستہ پر چل رہا ہے وہ بھی درست جا رہا ہے تو اس کا یہ سمجھنا اس کو شک میں بھی ڈال دے گا، اور یہ ایک غیر عقلی بات ہے۔
مثال 2: ایک ملک کا ایک بادشاہ ہے اور اس ملک پر صرف اسی کی حکومت ہے۔ اسی ملک کا ایک شہری جو اسی بادشاہ کا ہی کھانا کھاتا ہے، سب کچھ اسی سے لیتا ہے، مگر اس نے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اور کچھ شہری اس جھوٹے بادشاہ کو ہی اصلی بادشاہ جیسا سمجھنا شروع کر دیں۔ اب اگر کوئی شخص اس جھوٹے بادشاہ اور اس کے پیروکاروں کو باغی اور غلط نہ سمجھے اور ان کی غلط حرکتوں میں ان کی مدد کرے تو یہ شخص بھی قابل سزا ہو گا۔
قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى
ترجمہ: بے شک ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے، پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط کڑا تھام لیا۔
حوالہ: سورۃ البقرہ 2:256
وضاحت: اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ حق اور باطل الگ الگ ہیں، اس لیے دونوں کو ایک سمجھنا درست نہیں۔ صحیح ایمان یہ ہے کہ باطل (طاغوت) کا انکار کیا جائے اور صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھا جائے۔
کسی صحیح العقیدہ مسلمان کے کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر، مشرک یا منافق کہنا ایک بہت خطرناک گناہ ہے، جس کا وبال کہنے والے پر آتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔
إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا
ترجمہ: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے "اے کافر!" تو یہ بات ان دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور لوٹتی ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم
وضاحت: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر دلیل کسی مسلمان کو کافر کہنا انتہائی خطرناک ہے، اور اگر وہ شخص واقعی کافر نہ ہو تو یہ حکم کہنے والے پر واپس آ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں مختلف خواص اور اثرات پیدا فرمائے ہیں۔ ہم عام طور پر روزمرہ زندگی میں یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آگ جلانے کا کام کرتی ہے، چھری کاٹتی ہے اور پانی ڈبونے کا سبب بنتا ہے۔ بار بار اس مشاہدے کی وجہ سے انسان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ شاید یہ اثرات ان چیزوں کی اپنی ذاتی طاقت اور خاصیت ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی چیز میں کوئی مستقل یا ذاتی تاثیر نہیں ہوتی۔ ہر چیز کا اثر اور ہر عمل کا وقوع صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے۔
مثلاً جب آگ جلانے کا سبب بنتی ہے تو اصل میں دو چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے واقع ہوتی ہیں:
1۔ آگ کا وجود میں آنا اور اس کا موجود ہونا
2۔ جلنے کا اثر پیدا ہونا
اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو آگ نہ جل سکتی ہے اور نہ کسی چیز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اسی طرح پانی کا ڈبونا، چھری کا کاٹنا اور دیگر تمام اسباب کے خواص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ یہ اسباب بذاتِ خود مؤثر نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی مؤثر اور فاعل ہے۔
لہذا توحید کا صحیح مفہوم سمجھنے کیلئے اور توحید کا پختہ یقین حاصل کرنے کیلئے قرآنی واقعات بہت اہم اور ضروری ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہئے کہ اسے قرآنی واقعات خصوصاً توحید سے متعلق اسباق نہ صرف یاد ہوں بلکہ وہ وقتاً فوقتاً ان کو دہرائے تاکہ اس کا عقیدہ توحید میں کمزوری سے محفوظ رہے۔
- اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کا انتظام فرعون کے گھر میں کر دیا
- دودھ پلانے کیلئے واپس ان کی والدہ کے پاس بھجوا دیا
- عصا کو معجزہ بنا دیا
- ہاتھ کو روشن کر دیا
- مادر زاد نابینا کو ہاتھ لگانے سے بینا کر دیا
- کوڑھی کا مرض ختم ہو جاتا
- آگ میں رہے مگر آگ نے جلایا نہیں
- گردن پر چھری چلائی مگر وہ چلی نہیں