اس سبق میں عقیدہ آخرت سے متعلق درج ذیل بنیادی باتیں جانیں گے:
- عقیدہ آخرت کی اہمیت و ضرورت
- آخرت کے احوال حقیقی ہیں
- آخرت کے حالات کا سمجھ نہ آنا
- عالم برزخ یعنی قبر کی زندگی
- قیامت کا قیام
- میدان حشر کا منظر
- حساب کتاب
- اعمال نامہ کی تقسیم
- حوض کوثر
- پل صراط
- جنت کی نعمتیں اور جنت میں ہمیشہ رہنا
- جہنم کی سزائیں اور جہنم میں ہمیشہ رہنا
عقیدہ آخرت کا مطلب
ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد ایک زندگی ہے جس میں ہر انسان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ نیک اعمال کا اچھا بدلہ دیا جائے گا اور برے اعمال کی سزا ملے گی۔
وہ زندگی ہمیشہ کی ہے۔ جو آدمی ایمان کے بغیر دنیا سے چلا گیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
اور جو آدمی ایمان کے ساتھ گیا اور اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا تو وہ جنت میں جائے گا اور ہمیشہ جنت میں رہے گا۔
اور جس کے گناہوں والا پلڑا بھاری ہو گیا تو اللہ تعالیٰ یا تو اپنے اختیار سے معاف فرما دیں گے یا پھر وہ سزا کے بعد جنت میں جائے گا اور ہمیشہ جنت میں رہے گا۔
عقیدہ آخرت کی ضرورت
انسان کے اندر اللہ تعالیٰ فطری طور پر یہ خواہش رکھی ہے کہ انصاف ہونا چاہیے۔ اگر کسی نے کوئی غلط کیا تو اس کو سزا ملنی چاہیے اور اگر کسی نے اچھا کام کیا ہے تو اس کا اجر ملنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے لیے آخرت بنائی ہے کیونکہ دنیا میں حقیقی انصاف ممکن نہیں ہے۔ بہت سے لوگ دنیا میں ظلم کرتے ہیں مگر انہیں مکمل سزا نہیں ملتی، اور بہت سے نیک لوگ اپنے اعمال کا پورا اجر دنیا میں نہیں پاتے۔
چنانچہ جس انسان کو آخرت پر یقین ہوتا ہے وہ مطمئن ہوتا ہے کہ ایک بدلہ کا دن بھی ہے، جہاں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت کو بدلہ کی جگہ بیان فرمایا ہے: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
عقیدہ آخرت کی اہمیت
آخرت پر ایمان دین اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ آخرت پر ایمان رکھنا ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ یعنی اگر کوئی مسلمان عقیدہ آخرت کا انکار کردے یا دل سے اس کو سچا نہ مانے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔
بالفرض اگر ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی توحید کا قائل ہے اور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتا ہے لیکن آخرت کے بارے میں شک میں مبتلاء ہے تو ایسے شخص کا ایمان خطرے میں ہے۔
وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
ترجمہ: اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
مختصر وضاحت: مومن کی ایک بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ آخرت پر کامل یقین رکھتا ہے۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ترجمہ: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
ترجمہ: تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
آخرت کے احوال حقیقی ہیں
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں آخرت کے احوال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس عالم کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، اس لیے بعض اوقات ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں کے حالات کیسے ہوں گے۔
اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب تک انسان کسی چیز کو خود نہ دیکھ لے، اس کی مکمل حقیقت کو سمجھنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی بچے کو، جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے، بتایا جائے کہ وہ ایک وسیع دنیا میں جائے گا جہاں مختلف قسم کے حالات اور نعمتیں ہوں گی، تو وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔
اسی حقیقت کو "کنویں کے مینڈک" کے محاورے سے بھی سمجھایا جا سکتا ہے، جو اپنی محدود دنیا سے باہر کی وسعت کا تصور نہیں کر پاتا۔
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں ہی آخرت کے کچھ مناظر دکھا دیتے تاکہ ہمارا ایمان مزید مضبوط ہو جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے امتحان کی جگہ بنایا ہے۔ اگر انسان کو آخرت کے مناظر واضح طور پر دکھا دیے جائیں تو پھر امتحان کا مقصد ہی باقی نہیں رہتا۔
خلاصہ: آخرت کے احوال یقینی اور حقیقی ہیں، یہ محض خیالی یا مجازی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں، جن پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
عالمِ برزخ
آخرت کی منازل میں سے سب سے پہلی منزل عالمِ برزخ ہے۔ انسان کی موت سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک کے زمانے کو عالمِ برزخ کہا جاتا ہے۔
اس دور میں انسان کی روح اور جسم الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ روح کو اس کے اعمال کے مطابق مقام دیا جاتا ہے، جبکہ جسم قبر میں ہوتا ہے یا کسی اور صورت (مثلاً راکھ وغیرہ) میں موجود ہوتا ہے۔
عالمِ برزخ میں انسان کو اس کے نیک اعمال کا کچھ اجر دیا جاتا ہے، جبکہ گناہگار کو اس کے برے اعمال کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ یہ جزا و سزا جنت اور جہنم کے مقابلے میں کم درجے کی ہوتی ہے، لیکن اپنی جگہ نہایت سخت اور حقیقی ہوتی ہے۔
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ
ترجمہ: پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوں گے۔
حوالہ: (سورۃ محمد: 27)
مختصر وضاحت: اس آیت میں کفار اور نافرمان لوگوں کی موت کے وقت کی سختی کو بیان کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے فوراً بعد ہی انسان کے ساتھ معاملہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی عالمِ برزخ کی ابتدائی کیفیت ہے، جہاں انسان اپنے اعمال کے اثرات دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔
قیامت کا قیام
جب قیامت قائم ہوگی تو اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے جسموں میں دوبارہ روحیں لوٹا دیں گے۔ جو جہاں دفن ہوگا، وہیں سے اٹھایا جائے گا، اور سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر تیزی کے ساتھ میدانِ حشر کی طرف روانہ ہوں گے۔
اس وقت دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ سورج بے نور ہو جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، اور سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ انسان اس قدر خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہوگا کہ اسے اپنی قیمتی ترین چیزوں کی بھی خبر نہیں ہوگی۔
ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا، اور سب لوگ میدانِ حشر میں جمع ہو جائیں گے۔ وہاں شدید گرمی ہوگی، اور ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔
اس دن اللہ تعالیٰ کا جلال اور غضب ظاہر ہوگا۔ میدانِ حشر کی سختیوں کی وجہ سے ہر انسان یہ چاہے گا کہ کسی طرح جلدی حساب کتاب شروع ہو جائے، لیکن کسی میں یہ ہمت نہیں ہوگی کہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے عرض کرے۔
چنانچہ لوگ مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حساب کتاب شروع کرنے کی دعا کریں، لیکن ہر نبی اپنی ذمہ داری اور اس دن کی ہیبت کی وجہ سے معذرت کرے گا۔
آخرکار لوگ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کریں گے اور دعا فرمائیں گے، جس کے بعد اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کرنے کا حکم فرمائیں گے۔
اعمال ناموں کی تقسیم
قیامت کے دن سب سے پہلے اعمال نامے تقسیم کیے جائیں گے۔ ہر انسان کو اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔
اہلِ ایمان کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، جو ان کی کامیابی اور نجات کی علامت ہوگا۔ جبکہ کفار اور نافرمان لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں بلکہ پیٹھ کے پیچھے سے دیے جائیں گے، جو ان کی ناکامی کی نشانی ہوگی۔
اس کے بعد کفار کا باقاعدہ حساب کتاب نہیں ہوگا، بلکہ انہیں سیدھا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
البتہ مسلمانوں کا حساب لیا جائے گا، ان کے اعمال کا جائزہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے ساتھ عدل اور رحمت کا معاملہ کیا جائے گا۔
وزنِ اعمال
قیامت کے دن مسلمانوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ نیکیوں اور برائیوں کو ایک میزان (ترازو) میں تولا جائے گا۔
جس شخص کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا، وہ کامیاب ہو کر جنت میں داخل ہو جائے گا۔
اور جس شخص کے گناہوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا، وہ اپنے گناہوں کی سزا پانے کے لیے جہنم میں جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالآخر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔
اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے حق میں شفاعت (سفارش) کو بھی قبول فرمائیں گے، اور بہت سے لوگوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما دیں گے۔
حوضِ کوثر
حوضِ کوثر وہ عظیم حوض ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو قیامت کے دن عطا فرمایا ہوگا۔ یہ میدانِ حشر میں ہوگا جہاں آپ ﷺ اپنی امت کو پانی پلائیں گے۔
اس حوض کا پانی نہایت سفید، دودھ سے زیادہ صاف اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس کی خوشبو مشک سے بھی زیادہ عمدہ ہوگی۔
جو شخص اس حوض سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
البتہ بعض لوگ جو دین میں تبدیلیاں (بدعات) پیدا کریں گے، انہیں اس حوض سے دور کر دیا جائے گا۔
پل صراط
پل صراط وہ پل ہے جو جہنم کے اوپر قائم ہوگا اور ہر انسان کو جنت میں جانے کیلئے اس پر سے گزرنا ہوگا۔
بعض لوگ اس پل سے بجلی کی طرح تیزی سے گزر جائیں گے، بعض ہوا کی رفتار سے، کچھ لوگ دوڑتے ہوئے یا چلتے ہوئے عبور کریں گے۔
جبکہ بعض لوگ گرتے پڑتے اس پل کو کراس کریں گے اور کچھ لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے نیچے گر جائیں گے۔
جس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا وہ کامیابی کے ساتھ اس پل کو پار کرکے جنت میں داخل ہو جائے گا۔
جنت
درج بالا تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ایک مومن کو جنت عطا فرمائی جائے گی۔ مقرب بندوں کو اعلیٰ درجے کی جنت نصیب ہوگی جبکہ عام مسلمانوں کو ان سے کم درجے کی جنت ملے گی۔
جنت میں ہر جنتی کو بے شمار نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ وہاں ہر قسم کی راحت، خوشی اور آسائش موجود ہوگی۔
جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنت میں رہیں گے، نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم۔
سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ اہلِ جنت کو اللہ تعالیٰ کی زیارت نصیب ہوگی، اور وہ جو کچھ مانگیں گے اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائیں گے۔
جنت میں حسین باغات، نہریں، پاکیزہ مشروبات اور حوریں ہوں گی، اور ہر وہ چیز موجود ہوگی جو دل چاہے۔
جنت کی نعمتوں کی اصل حقیقت کو دنیا میں پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا، کیونکہ ہماری عقل اور فہم محدود ہے۔
جہنم
جہنم آخری سزا کی جگہ ہے۔ جن لوگوں کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے یعنی کفار، وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
جہنم میں آگ، کھولتا ہوا پانی، بے عزتی اور ہر طرح کے سخت عذاب ہوں گے۔
بعض اہلِ ایمان کو بھی ان کے گناہوں کی سزا کیلئے جہنم میں ڈالا جائے گا، لیکن وہ سزا بھگتنے کے بعد جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے۔
جہنم ایک حقیقت ہے جہاں جہنمیوں کو ان کے گناہوں کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ کوئی ظلم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عین انصاف ہے۔
جنت اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کا مظہر ہے جبکہ جہنم اس کی صفتِ قہار کا مظہر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے رحیم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سزا نہیں دیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لا کر سچے دل سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں، کیونکہ وہ بہت زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں۔